سینیٹ میں بھی آرمی ایکٹ ترامیمی بل کثرت رائے سے منظور

  • بدھ 08 / جنوری / 2020
  • 5070

پاکستانی سینیٹ نے بھی پاکستان آرمی، نیوی، ایئرفورس ایکٹس ترامیمی بلز 2020 کثرت رائے سے منظور کرلیے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہونے والے سینیٹ اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک کے علاوہ، وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی و دیگر اراکین موجود تھے تاہم سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی ایوان میں موجود نہیں تھے۔

سینیٹ اجلاس کا واحد ایجنڈا سروسز ایکٹ ترامیمی بلز کی منظوری تھا۔ اجلاس میں ان بلز کی شق وار منظوری لی گئی۔ ایوان بالا میں پاک آرمی ایکٹ 1952، پاک فضائیہ ایکٹ 1953 اور پاک بحریہ ایکٹ 1961 میں ترامیم کے لیے علیحدہ علیحدہ بلز پیش کیے گئے تھے۔

 

قومی اسمبلی گزشتہ روز ان بلوں کی منظوری دے چکی ہے۔ جس کے بعد انہیں سینیٹ کمیٹی نے منظور کرلیا تھا۔ آج اجلاس میں سینیٹر ولید اقبال نے قائمہ کمیٹی دفاع کی تینوں ترامیمی بلز سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان آرمی، ایئرفورس اور نیوی ایکٹس ترامیمی بلز کو پیش کیا اوران کی شق وار منظوری لی گئی۔ ایوان میں موجود اراکین نے کثرت رائے سے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

ایوان میں ان ترامیمی بلز کو پیش کرنے کے وقت نیشنل پارٹی کے 4 سینیٹرز نے مخالفت کی جبکہ ایک سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے بل کی حمایت کی۔ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) نے احتجاج کیا اور ان کے سینیٹرز ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ کثرت رائے سے ان تینوں بلز کی منظوری کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایوان بالا کا اجلاس جمعہ 10 جنوری کو صبح  تک ملتوی کردیا۔

سینیٹ کی یہ پوری کارروائی صرف 20 منٹ میں مکمل کی گئی اور ایوان میں کسی دوسرے ایجنڈے پر بات نہیں کی گئی۔