ایران نے امریکہ کے منہ پر تھپڑ رسید کیا ہے: آیت اللہ خامنہ ای

  • بدھ 08 / جنوری / 2020
  • 5020

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے خلاف ایران کا ردِعمل امریکا کے منہ پر تھپڑ ہے۔

ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے حملے کے کچھ گھنٹوں بعد ایرانی سپریم لیڈر نے سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے براہِ راست خطاب کیا۔ خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت کے لیے امریکا کو صرف تھپڑ مارا گیا ہے۔  انتقام ایک علیحدہ معاملہ ہے لیکن جو بات اہم ہے وہ یہ کہ خطے میں امریکا کی فسادی موجودگی ختم ہونی چاہیے‘۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’عالمی غنڈہ گرد طاقتوں کے مقابلے میں ایران کافی حد تک مسلح ہے‘۔ انہوں نے عراقی پارلیمان کی جانب سے امریکی فوجیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم اور ایرانی پارلیمان کی جانب سے امریکی افواج کو دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کرنے کے فیصلوں کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ عراق، ایران کی سابقہ بادشاہت یا موجودہ سعودی حکمرانوں کی طرح کٹھ پتلی بن جائے تا کہ تیل سے مالا مال خطے میں وہ جو چاہیں کرسکیں۔ لیکن عراقی نوجوانوں اور مراجع (مذہبی رہنماؤں) میں موجود ایماندار عناصر اس صورتحال میں اٹھ کھڑے ہوئے اور جنرل قاسم سلیمانی نے بطور ایک فعال مشیر اور معزز حامی اس مضبوط محاذ کی مدد کی۔

آیت اللہ خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کی لبنان کے بارے میں بھی یہی منصوبہ بندی تھی کہ ’امریکا لبنان کو سب سے اہم عنصر یعنی آزادی سے پاک کرنا چاہتا ہے جو مزاحمت ہے، تاکہ وہ مزاحمت نہ کرسکے‘۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو خطے سے نکلنے پر مجبور کیا جائے گا۔ تہران میں کابینہ اجلاس میں حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ’تم نے جنرل قاسم سلیمانی کے ہاتھ ان کے جسم سے جدا کیے، خطے سے تمہارے پاؤں اکھاڑ دیے جائیں گے‘۔

ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد 8 جنوری کو عراق میں 2 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی اور اتحادی افواج موجود ہیں۔ امریکا نے حملے کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں بلکہ اس کا کہنا تھا کہ نقصانات اور ہلاکتوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے فوجی اڈوں پر حملے کے نتیجے میں 80 ’امریکی دیشت گرد' ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔