ایڈووکیٹ انعام الرحیم کورہا کرنے کا حکم
- جمعرات 09 / جنوری / 2020
- 3930
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے وزارت دفاع کے تحویل میں موجود وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
ہائی کورٹ نے 3 جنوری کو وکیل کے بیٹے کی جانب سے ان کے اغوا کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرکے وفاق اور وزارت دفاع کو نوٹس جاری کیے تھے۔ گزشتہ سماعت میں جسٹس وقاص رؤف نے کہا تھا قانونی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے سماعت ملتوی کردی تھی۔ آج کی سماعت میں لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کا موقف مسترد کردیا۔
سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی جیک برانچ کے ڈائریکٹر لیگل بریگیڈیئر فلک ناز وزارت داخلہ کا نمائندہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی حراست غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔
20 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے وزارت دفاع اور داخلہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی موجودگی کے حوالے سے بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔ وزارت داخلہ نے ان کی موجودگی سے انکار کیا تھا جبکہ وزارت دفاع نے اعتراف کیا تھا کہ وکیل کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ وزارت دفاع کے نمائندے نے اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی کہ زیر حراست وکیل نے کس طرح کی خلاف ورزی کی تھی۔
ان کے وکیل ایڈووکیٹ احسان الدین شیخ نے کہا تھا کہ اگر انعام الرحیم نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی بھی ہے تو ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیئے جبکہ ان کی گمشدگی کے 3 ہفتے بعد لاہور ہائی کورٹ میں ان کی موجودگی کے مقام کے بارے میں بتایا گیا۔
خیال رہے کہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے لاپتہ افراد کی بازیابی اور فوج اور مسلح افواج کے انتظامی احکامات کے خلاف متعدد درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔ وہ جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی حملے اور نیوی کے افسران سمیت دیگر افراد کی سزا کے حوالے سے ہونے والے ہائی پروفائل کورٹ مارشل کے خلاف دائر درخواست کے بھی وکیل تھے۔
وکیل کے مبینہ اغوا کے درج مقدمے کے مطابق ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو نامعلوم افراد نے عسکری 14 میں ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا جو گیریژن شہر میں خاصی محفوظ آبادی سمجھتی جاتی ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ جس وقت ایڈووکیٹ انعام الرحیم سو رہے تھے نامعلوم افراد ان کی رہائش گاہ میں زبردستی داخل ہوئے اور انہیں جبراً اغوا کرلیا۔