ایرانی میزائل حملوں کا قبل از وقت پتہ چل گیا تھا: امریکا کا دعویٰ
- جمعرات 09 / جنوری / 2020
- 4730
امریکا میں وائٹ ہاؤس اور دفاعی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں حملے سے پہلے ہی پتہ چل گیا کہ ایرانی میزائل عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔
واشنگٹن پوسٹ میں شائع رپورٹ میں حکام نے دعویٰ کیا کہ انہیں خفیہ ذرائع کے علاوہ عراق میں مواصلاتی نظام سے اس حملے کی وارننگ مل گئی تھی۔ ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم جانتے تھے اور عراق نے ہمیں حملوں سے کئی گھنٹوں قبل ہی اس حوالے سے خبردار کردیا تھا۔ ہمیں کئی گھنٹے قبل ہی خفیہ اطلاعات موصول ہو گئی تھیں کہ ایران ہمارے اڈوں کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایک اور سینئر دفاعی عہدیدار نے معلومات کی فراہمی میں عراق کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر عراقیوں نے معلومات فراہم کی تھیں تو یہ کئی گھنٹے قبل ممکن نہیں تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع مارک اسپر نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی سمیت محکمے کے اہم حکومتی عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا تھا اور حملے کی اطلاع موصول ہونے پر انہوں نے اجلاس منسوخ کردیا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق قبل از وقت وارننگ ملنے کی بدولت فوجی کمانڈرز کو اپنی فوج کو محفوظ مقام پر منتقل اور حفاظتی سامان لیس کرنے کا مناسب وقت مل گیا اور حملے کے کئی گھنٹوں بعد تک امریکی فوجی اپنے محفوظ ٹھکانوں میں رہے۔
ایک عہدیدار نے کہا کہ حملے سے قبل کچھ دستے مغربی عراق میں واقع الاسد فوجی اڈے سے نکل گئے تھے۔ ایک اور سینئر دفاعی عہدیدار نے کہا کہ یہ محض خوش قسمتی نہیں کہ کوئی حملے میں ہلاک نہیں ہوا، قسمت کا ہمیشہ اہم کردار ہوتا ہے لیکن فوجی محاذ پر موجود کمانڈرز نے حملے کا اندازہ لگاتے ہوئے بہترین فیصلہ کیا۔
حملے کے بعد ٹیلی ویژن خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی قبل از وقت ملنے والی وارننگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی بدولت کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک دفاعی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر ریڈار نیٹ ورک کی جانب اشارہ کر رہے تھے جو امریکی فوج نے دشمنوں کے میزائلوں کی نشاندہی کے لیے نصب کیا تھا۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ان اطلاعات کی روشنی میں کم از کم دو خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی بدولت امریکا کو اپنی منصوبہ بندی کے لیے معقول وقت مل گیا۔ حملے سے قبل سب سے پہلے یہ عندیہ ملا کہ عراق میں موجود امریکی فوج پر ایران حملے کی تیاری کر رہا ہے البتہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ اطلاع کہاں سے موصول ہوئی۔
ایک اور حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فوج کو حکومت کے اندرونی ذرائع سے حملے کے واضح اشارے مل چکے تھے جبکہ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ پینٹاگون کو ایران کے جوابی حملے کی پوری توقع تھی۔ دوسری وارننگ تکنیکی اعتبار سے ملی۔ رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کے پاس سیٹلائٹ ہے جو لانچ ہونے کے فوراً بعد میزائل کا سراغ لگا لیتی ہے جس سے امریکی حکومت حملوں کے بارے میں خبردار ہو گئی تھی۔
امریکا نے احتیاطی تدابیر کے طور پر مشرق وسطیٰ میں ساڑھے 4 ہزار فوجی تعینات کر دیے تھے اور خطے میں فوج کے مقامات بھی بدل دیے تھے۔ محاذ پر موجود کمانڈرز نے اپنے سروس ممبرز کو چھوٹے فوجی اڈوں پر منتقل کرتے ہوئے آلات اور سازوسامان کو بھی مختلف مقامات پر منتقل کردیا تھا تاکہ انہیں ہدف بنانا مشکل ہو سکے۔