ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالر جرمانے کے خلاف پاکستان کا امریکی عدالت سے رجوع

  • جمعہ 10 / جنوری / 2020
  • 7970

پاکستان نے ریکوڈک کیس میں عائد 6 ارب ڈالر کے جرمانہ رکوانے کے لیے امریکی وفاقی عدالت سے رجوع کیا ہے۔

آسٹریلوی کاپر کمپنی ٹیتھیان کاپر پرائیوٹ لمیٹڈ نے صوبہ بلوچستان میں مسترد شدہ ریکوڈک مائیننگ منصوبے کے تنازع پر گزشتہ برس کیس جیتا تھا جس میں پاکستان کو 6 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اب اس معاملے پر پاکستان نے امریکی وفاقی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے فیصلے پر عمل درآمد سے ان کے سیاسی و معاشی استحکام پر تباہ کن نتائج ہوں گے۔

پاکستان نے اعتراض کیا ہےکہ  ٹیتھیان کو قانونی چارہ جوئی کی اجازت نہیں ملنی چاہئے کیونکہ وہ  طریقہ کار کی غلطیوں کی بنیاد پرٹھیکہ منسوخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ایوارڈ انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس کے ذریعہ جاری کیا جانے والا اب تک کا دوسرا سب سے بڑا ایوارڈ ہے اور یہ پاکستان کی سالانہ مجموعی ملکی پیداوار کا 2 فیصد اور اس کے کُل غیر ملکی ذخائر کا 40 فیصد ہے۔

آئی سی ایس آئی ڈی ایک بین الاقوامی ثالثی ادارہ ہے جو 1966 میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے مابین قانونی تنازعات کے حل اور مفاہمت کے لیے قائم کیا گیا تھا جسے واشنگٹن کے ورلڈ بینک گروپ سے فنڈز ملتے ہیں۔

پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہماری معیشت کو پہلے ہی کئی چیلنجز اور خامیوں کا سامنا ہے اور اس ایوارڈ کے نفاذ سے حکومت اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے گزشتہ سال موصول ہونے والے 6 ارب ڈالر کے قرض کی مؤثر انداز میں نفی ہوگی۔

پاکستان نے نشاندہی کی کہ آئی سی ایس آئی ڈی کے سکریٹری جنرل نے گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں اسے روکنے کی درخواست رجسٹرڈ کرتے ہوئے ایوارڈ کے نفاذ پر حکم امتناع دیا تھا۔  اس قانونی چارہ جوئی کو روکنے کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔

پاکستان نے دلیل دی ہے کہ  ٹربیونل نے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کیا اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے غلط طریقہ کار پر انحصار کیا گیا۔  اس کے علاوہ 56 سالہ آپریٹنگ دورانیے کے حساب سے  ہرجانہ کا تخمینہ تیار کیا گیا جبکہ پاکستانی حکام نے منصوبے کے دورانیے کی کوئی اجازت نہیں دی تھی۔

واضح رہے کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی کی انتظامیہ نے 11 ارب 43 کروڑ روپے کے نقصانات کا دعویٰ کیا تھا۔ کمپنی نے یہ دعویٰ بلوچستان حکومت کا کمپنی کے لیے لیزنگ درخواست مسترد ہونے کے بعد آئی سی ایس آئی ڈی میں 2012 میں دائر کیا گیا تھا۔ ریکو ڈک جس کا مطلب بلوچی زبان میں 'ریت کا ٹیلہ' ہے، بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک چھوٹا گاؤں ہے جو ایران اور افغانستان سرحد کے قریب واقع ہے۔

ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔