فوجی انخلا کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے امریکہ وفد بھیجے: عراقی وزیر اعظم
- ہفتہ 11 / جنوری / 2020
- 4580
عراق کے نگران وزیراعظم نے امریکہ سے کہا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا کے نظام الاوقات طے کرنے پر کام کا آغاز کیا جائے۔ ان کے دفتر نے جمعے کے روز بتایا کہ عراق اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کے حالیہ اقدامات کے باوجود، وزیراعظم نے اصرار کیا کہ امریکی فوج واپس بلائی جائے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ درخواست جمعرات کی شام گئے ہونے والے ٹیلیفونک رابطے کے دوران کی گئی، جس میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے گفتگو کی۔ انہوں نے پومپیو کو بتایا کہ عراق میں حالیہ امریکی کارروائی عراقی اقتدار اعلیٰ کی ناقابل قبول خلاف ورزی اور دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے سیکیورٹی کے سمجھوتوں کے خلاف ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے پومپیو سے کہا کہ عراق وفود بھیجے جائیں جو عراق سے غیر ملکی فوج کے انخلا سے متعلق پارلیمان کی قرارداد پر عمل درآمد کا طریقہ کار تیار کرے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ عراقی حکام سے اجازت کے بغیر، امریکی افواج عراق میں داخل ہوئی تھیں اور عراق کی فضائی حدود میں ڈرون پرواز کر رہے ہیں جو دو طرفہ سمجھوتوں کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نےجمعے کے روز کہا ہے کہ عراق میں فوج کی موجودگی مناسب معاملہ ہے۔ ان سے پوچھا گیا تھا آیا امریکی فوج کے انخلا سے متعلق بات چیت کے لیے امریکہ وفد عراق بھیج رہا ہے۔
ایک بیان میں محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا ہے کہ امریکی اور عراقی حکومتوں کے مابین گفتگو کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بات چیت صرف سیکیورٹی کے معاملے پر ہو گی۔ اس کی ضرورت ہمارے مالیاتی، اقتصادی اور سفارتی پارٹنرشپ کے لیے نہیں ہے۔
عراقی قانون سازوں نے اتوار کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس سے قبل تین جنوری کو بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایران کے اعلیٰ کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے سینئر کمانڈر ابو مہدی المھندس ہلاک ہو گئے تھے۔
پارلیمانی قرارردا میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ انخلا سے متعلق باضابطہ درخواست کرے۔ اُس وقت قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے، عبدالمہدی نے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا تھا تاکہ فوجوں کی واپسی یقینی بنائی جا سکے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پومپیو سے بات کرتے ہوئے عبدالمہدی نے کھل کر فوری انخلا کی درخواست نہیں کی۔ لیکن یوں محسوس ہوا کہ انہوں نے واپسی کی حکمت عملی اور نظام الاوقات کے لیے امریکہ کو وقت دیا۔