حکم ملا تو آزاد کشمیر پر قبضہ کریں گے: بھارتی آرمی چیف

  • ہفتہ 11 / جنوری / 2020
  • 5520

انڈیا کی بری فوج کے سربراہ جنرل منوج مُکند نرونے  نے کہا ہے کہ انڈین پارلیمان پورے کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتی ہے۔ اگر انہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو واپس لینے کا حکم ملے گا تو فوج  کارروائی کرے گی۔

دہلی میں منعقدہ اپنی پہلی میڈیا کانفرنس میں انہوں نے بری فوج کے سربراہ کے طور پر اپنے لائحہ عمل اور منصوبہ بندی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔  آپریشنل ترجیحات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک فوج کا سوال ہے ہمارے لیے شارٹ ٹرم خطرہ دراندازی ہے جبکہ طویل مدتی خطرہ روایتی جنگ ہے اور ہم اسی کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

انڈین خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق جنرل مُکند نرونے نے کہا کہ آنے والے دنوں میں فوج کی توجہ تعداد کے بجائے کوالٹی پر ہو گی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متعلق ان کا کہنا تھا ’جہاں تک پی او کے (پاکستان کے زیر انتظام کشمیر) کا سوال ہے تو اس کے بارے میں پارلیمانی قرارداد ہے کہ پانچ اگست سے قبل والا پورا جموں اور کشمیر ہمارا حصہ ہے۔ یہ پارلیمانی قرارداد ہے اور اگر پارلیمان یہ چاہتی ہے کہ وہ علاقہ بھی کبھی ہمارا ہو اور اس قسم کا اگر کوئی حکم ہمیں ملتا ہے تو اس پر ضرور کارروائی کی جائے گی۔

بھارتی بری فوج کے نئے سربراہ نے پاکستانی فوج اور مبینہ دہشت گردوں کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر خطرے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بہت سرگرمی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر انٹیلیجینس الرٹس موصول ہوتی ہیں اور انہیں بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم بہت سی سرگرمیوں کو ناکام کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور اسے ہم بی اے ٹی ایکشن کہتے ہیں۔

انہوں نے چین اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ فوج کے توازن کے حوالے سے کہا ہے کہ شمالی اور مغربی دونوں سرحدوں پر مساوی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی سرحد کی فوجی یونٹ کے لیے چھ آرمی آپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹرز دیے جائيں گے کیونکہ زیادہ خطرہ ہے۔

فوجی سربراہ مُکند نرونے نے انڈیا اور چین کے درمیان مجوزہ ہاٹ لائن کے بارے میں کہا کہ ’جلد ہی انڈین ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اور چینی ویسٹرن کمانڈ کے درمیان ایک ہاٹ لائن قائم ہو گی۔‘ دو محاذوں پر بیک وقت لڑائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں سے ایک بنیادی ہو گی جبکہ دوسری ثانوی۔ جو بنیادی ہوگی وہاں زیادہ فوج تعینات کی جائے گي اور ہم چاہیں گے ثانوی محاذ پر بھی کوئی کمی نہ رہ جائے۔  اسی لیے ہمارے پاس دو محاذی ٹاسک فورس ہے۔