طیارہ حادثے کے خلاف ایران میں احتجاج، حکومت پر تنقید

  • اتوار 12 / جنوری / 2020
  • 4180

ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے یوکرین کا مسافر طیارہ گرائے جانے کے اعتراف کے بعد تہران میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہؤا ہے۔

احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ اتوار کو احتجاج کے اعلان کے بعد تہران کے ولی عصر اسکوائر میں پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہیں تاکہ کسی بھی غیرمتوقع صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

8 جنوری کو ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے اور 80 امریکی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس واقعے کے کچھ گھنٹے بعد  تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑانے والا یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس  میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔ یوکرینی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈین، 17 سویڈش، 4 افغان، 3 جرمن اور 3 برطانوی شہری جبکہ عملے کے 9 ارکان اور 2 مسافروں سمیت 11 یوکرینی شہری سوار تھے۔

ایران نے ابتدائی طور پر طیارہ گرانے کے الزامات کی تردید کی گئی تھی لیکن ناقابل تردید ثبوت سامنے آنے کے بعد ایران نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی۔ طیارہ گرانے اور پھر اس کے بعد اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے مستقل وضاحتیں پیش کرنے پر ایرانی عوام نے حکام پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حادثے کے ذمے داران کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہفتے کو رات گئے بدقسمتی مسافروں کے لیے منعقدہ شمع روشن کرنے کی تقریب باقاعدہ مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی جہاں سینکڑوں افراد نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی سمیت ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

اس مظاہرے میں شرکت کرنے والے ایران میں برطانوی سفیر روب میکیئر کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا جس پر برطانیہ نے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ روب میکیئر نے کہا تھا کہ وہ محض شمع روشن کرنے کی تقریب دیکھنے کے لیے گئے تھے تاکہ حادثے میں مرنے والے برطانوی باشندوں کو خراج عیقدت پیش کر سکیں۔ انہیں علم نہیں تھا کہ یہ تقریب ایک احتجاج کی شکل اختیار کرلے گی۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے مظاہرے کے مقام سے نکلنے کے آدھے گھنٹے بعد گرفتار کیا گیا تاہم چند گھنٹے بعد برطانوی سفیر کو رہا کردیا گیا تھا۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک ریب نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایران سیاسی اور معاشی پابندیوں کے ساتھ اپنی الگ تھلگ حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے یا سفارتی راستہ اپنا کر کشیدگی کو کم کر سکتا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ سفیر کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس رپورٹ کے منتظر ہیں اور اس کے بعد ہی اپنا موقف پیش کریں گے۔ تاہم ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیم سرکاری تنظیم سے گفتگو میں گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی سفیر کو ان مظاہروں کے انعقاد اور اس میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے کے شک میں گرفتار کیا گیا تھا جو عالمی سفارتی ضابطوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا ڈومینیک ریب کو بعدازاں وزارت خارجہ لے جا کر رہا کردیا گیا۔

ایران کی نیشنل سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر پارلیمانی کمیٹی کے رکن علاالدین بروجردی نے سفیر پر مظاہروں کے انعقاد کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔

طیارہ مار گرانے کا الزام ثابت ہونے کے بعد ایران کو عوام کے ساتھ میڈیا کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ایران کے اخبارات وطن امروز، ہمشاہری اور دی ایران ڈیلی نے اس واقعے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے صفحہ اول بڑی بڑی سرخیاں لگا کر اس عمل کو ناقابل معافی اور شرمناک قرار دیا۔

ایران کے موقر روزنامہ اعتماد نے اتوار کو اپنے اخبار میں 'معافی مانگیں اور استعفیٰ دیں' کی سرخی لگاتے ہوئے کہا کہ عوام طیارہ حادثے کے ذمے داران کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنما مہدی کروبی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کو براہ راست ذمے دار ٹھہراتے ہوئے  ان پر کڑی تنقید کی جس پر انہیں گھر میں نظربند کردیا گیا ہے۔

ایران کی جانب سے طیارہ حادثے کی ذمے داری قبول کرنے کے بعد ہفتے کو کم از کم دو جامعات کے باہر بھی مظاہرے کیے گئے جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کرکے مظاہرین کو منتشر کیا۔ دارالحکومت تہران کی امیر کبیر یونیورسٹی کے باہر طلبا متاثرین سے خراج عقیدت کے لیے شمعیں روشن کرنے کی تقریب کے لیے اکٹھا ہوئے لیکن پھر یہ احتجاج شکل اختیار کر گیا جس میں حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے بازی کرنے کے علاوہ جنرل سلیمانی کے پوسٹرز بھی پھاڑ دیے۔ اتوار کو مظاہرین ایک مرتبہ پھر احتجاج کے لیے اکٹھا ہو گئے ہیں اور حکومت مخالف نعرے بازی کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو بہادر قرار دیتے ہوئے ایران کی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ وہ مزید قتل عام سے گریز کریں۔ انہوں نے انگریزی فارسی میں دو ٹوئٹ کیں جس میں ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں اور مظاہروں کا جائزہ لے رہا ہوں۔

انہوں نے ٹوئٹ کی کہ بہادر اور ایک عرصے سے مصائب کا سامنے کرنے والے ایرانی عوام: اپنے دور صدارت کے آغاز کے وقت سے ہی میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں اور میری انتظامیہ آپ لوگوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔