ایران امریکہ تنازعہ: جنگ کا خطرہ حقیقی ہے
- تحریر
- اتوار 12 / جنوری / 2020
- 6930
دنیا دم سادھے ہوئے تھی کہ ایران کا ردِ عمل کیا ہو گا؟ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کو جس روز سپردِ خاک کیا، اسی رات ایران نے عراق میں واقع دو امریکی اڈوں پر بائیس میزائل داغے۔ امریکہ میں اس وقت دن غروب ہو نے کو تھا۔ امریکی صدر کی جانب سے ایک ٹویٹ کی صورت میں پہلا ردِ عمل آیا: ایران نے ہمارے دو ملٹری اڈوں پر میزائل حملہ کیا ہے۔ ہم جانی و دیگر نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں لیکن ابھی تک تو خیریت ہی ہے یعنی So far so good ، میں کل صبح اپنا باقاعدہ بیان دوں گا۔
امریکی صدر تو سونے چلے گئے لیکن اس کے بعد دنیا کی آنکھ نہ لگی۔ دنیا بھر کے میڈیا پر ایک ہی سوال تھا کہ صدر ٹرمپ کا جوابی ردِ عمل کیا ہوگا؟ تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا، کرنسی اور حصص مارکیٹس میں بے یقینی نے ڈیرے ڈال دیے۔ خدا خدا کرکے امریکہ میں دن کا آغاز ہوا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا تو دنیا کی جان میں جان آئی، یوں لگا جیسے یہ وہ ٹرمپ نہیں جو سونے سے قبل اور جاگنے کے فوراٌ بعد اپنی ترنگ میں ایسا ایسا ٹویٹ کردیتے ہیں کہ جس کا ملبہ ان کا اسٹاف بمشکل سنبھال پاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کنفرم کیا کہ حملے میں ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، دیگر نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ بقول صدر ٹرمپ، ایران کو اب اندازہ ہو گیا ہے،اس لئے کسی نئی فوجی کارروائی کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ البتہ یہ عزم پھر دوہرایا کہ جب تک میں امریکی قیادت سنبھالے ہوئے ہوں، ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکیں گے، ایران پر مزید پابندیاں لگانے کا اعلان بھی ان اقدامات میں شامل تھا۔ مشرقِ وسطیٰ نے بالخصوص اور دنیا نے بالعموم سکھ کا سانس لیا لیکن اس بے یقینی کے ساتھ کہ جانے اب مزید کیا ہو؟ کب ہو؟
مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ اور تصادم سے بھرپور مہ و سال کی چالیس سال سے زائد رپوٹنگ کرنے والے معروف برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے اس صور ت حال پر اپنا تجزیہ ان الفاظ سے شروع کیا: یہ جنگ محض حادثاتی ہے یا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے؟ ہم میں سے ہر ایک کا یہی خیال تھا کہ مڈل ایسٹ میں کوئی بھی حادثہ جنگ کا باعث بنے گا لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ صدر ٹرمپ اس کا آغاز یوں دھڑلے سے کریں گے۔ جنرل سلیمانی کا قتل ایران کے دل میں خنجر اتارنے کے مترادف ہے، کیا یہ فیصلہ اس خطے کے کسی دوسرے ملک کے ایما پر تو نہیں کیا گیا؟ یا پھر موصوف نے نتائج کا حساب کتاب کئے بغیر خود ہی بارود کے ڈھیر کو دیا سلائی دکھا دی ہے۔
اپنے تجزیے کے اختتام پر انتہائی طنزیہ انداز میں رابرٹ فسک نے لکھا: ارے ہاں، ایک بات اور، اس سال امریکہ میں انتخابات بھی تو منعقد ہو رہے ہیں جن میں صدر ٹرمپ جیتنے کی شدید متمنی ہیں۔ رہا ایران کا ردِ عمل تو یہ واضح رہے کہ ایران اپنی ہزیمت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرتا اور دیر یا سویر جواب ضرور دیتا ہے۔ چند ہفتے قبل دو آئل ٹینکرز پر قبضے کا واقعہ ہمارے سامنے ہے۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایرانی انقلاب کے بعد سے اب تک مسلسل محاذ آرائی اور کشمکش رہی ہے۔ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے کے مقولے کے مصداق ماضی میں کئی ایک معاملات میں دونوں نے خاموشی سے ایک دوسرے کی مدد بھی کی لیکن ایران میں مرگ بر امریکہ اور امریکہ میں ایران ہر برائی کی جڑ کا بیانیہ جاری رہا۔ دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے کوششوں سے 2015 میں ایران نیوکلئیر معاہدہ طے پایا تو مشرق وسطیٰ کے حالات میں سدھار کے کچھ امکانات پیدا ہوئے۔ مگر صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی اس معاہدے کو یکطرفہ اور امریکہ کے لئے ناموزوں قرار دے کر اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔
اس کے بعد یکے بعد دیگرے واقعات نے تصادم کو ہوا دی۔ ماضی قریب میں خلیج فارس میں ایران کے تیل کے ٹینکرز پر حملہ ہوا، ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکہ کا ایک ڈرون مار گرایا، اس کے بعد سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر شیلنگ ہوئی جس کا الزام امریکہ اور سعودی عرب نے ایران کو دیا۔ گزشتہ ماہ بغداد میں ایک امریکی کنٹریکٹر کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے عراقی ملیشیاء پر ڈرون حملے سے تئیس افراد ہلاک کر دئے۔ جواب میں اگلے ہی روز بغداد میں امریکی سفارت خانے کر گھیراؤ کیا گیا جس کا الزام امریکہ نے ایران اور ایران نواز تنظیموں پر عائد کیا۔یوں عمل اور ردِ عمل کا دائرہ پھیلتے پھیلتے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر منتج ہوا جب وہ اپنے عراقی ہم منصب المھندس کے ہمراہ بغداد ائیرپورٹ کے پاس سے گذر رہے تھے۔
دو سال قبل ہمیں امریکہ کے شہر اٹلانٹا جانے کا موقع ملا۔ ایک قریبی عزیز جارجیا اسٹیٹ یونی ورسٹی سے منسلک تھے۔ ان کی وساطت سے پروفیسر ڈاکٹر راشد نعیم سے ملاقات ہوئی۔ بھارت کے صوبہ بہار سے اسی کی دہائی میں پی ایچ ڈی کرنے آئے تو یہیں فیکلٹی کو جائن کر لیا۔ تاریخ، سیاسیات اور مذاہب کا تقابلی مطالعہ ان کے خاص مضامین ہیں۔ یونی ورسٹی سے متصل ایک کافی ہاؤس میں ان سے تفصیلی ملاقات طے ہوئی۔ ہم نے سوال کیا کہ دنیا میں فلاں فلاں جگہ پر جاری تصادم اور بڑی طاقتوں کے درمیان برتری کی پیہم کوششیں کیا رنگ لائیں گی؟
ہماری نشست کے سامنے والی دیوار پر دنیا کا ایک بڑا سا نقشہ لٹکا ہوا تھا۔انہوں نے کچھ دیر اس نقشے پر نظریں جمائے رکھیں اور پھر بولے: یہ دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ جنگ کب ہوگی؟ کسی انسانی غلطی یا حادثے سے شروع ہوگی یا کسی بڑی طاقت کے غلط اندازے سے، یہ تو وثوق سے نہیں کہا جا سکتا لیکن تاریخ کا مطالعہ اور انسان کی جبلت کے جانے پہچانے انداز چغلی کھا رہے ہیں کہ دنیا ایک خوفناک تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اکیسویں صدی میں برتر اور فیصلہ کن قوتیں کون کون سی ہوں گی اور یہ صدی کے نین نقش کیسے ہوں گے؟ یہ موضوع تو بہت وسیع اور پیچیدہ ہے۔ البتہ مشرق وسطیٰ میں یہ نین نقش قدرے واضح ہو رہے ہیں۔ گذشتہ اٹھارہ انیس سالوں میں مشرق وسطیٰ نے کئی صدیوں کے برابر تباہی دیکھی جو اب بھی رکنے پر آمادہ نہیں۔ شام، لیبیا، الجزائر، یمن، عراق خطے اور دنیا کی بڑی طاقتوں کی براہ راست یا بالواسطہ لڑائی میں کھیت رہے۔ قیمتی آثار قدیمہ تباہ ہوئے، صدیوں پرانے شہر کھنڈر ہوئے۔ ہنستے بستے گھرانے برباد اور بڑی تعداد میں مہاجر ہوئے۔
عالمی ردِ عمل کی شدت تھی یا اتحادیوں اور اپنوں کے سمجھانے کا اثر یا سوچا سمجھا وقتی وقفہ، بظاہر کچھ دیر کے لئے تصادم کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ امریکی صدر کی بے چین طبیعت کتنی دیر یہ چین برداشت کر سکے گی اور ان کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ اس کا ردِ عمل کیا ہوگا؟ اندیشہ ہے کہ ایران امریکہ تصادم بہت دیر چین سے نہیں بیٹھے گا۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال ایک بلیک ہول کی شکل اختیار کر رہی ہے جس میں خطے کی طاقتوں کے ساتھ بڑی طاقتیں چاہے اَن چاہے انداز میں داخل ہو رہی ہیں۔ پاکستان اس بلیک ہول کے کنارے ہونے کے ناطے بہت نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر راشد نعیم کی گفتگو یاد کرکے جھرجھری سی آ جاتی ہے کہ یہ دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔