سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا
- سوموار 13 / جنوری / 2020
- 5600
سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کے ماتحت ادارے کی حراست میں موجود کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کیمرہ سماعت کی درخواست پر حکومت سے تحریری جواب طلب کیا گیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے سابق فوجی افسر کی حراست غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا جس کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔ وفاقی حکومت کی درخواست پر عدالت عظمیٰ کے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔
سماعت میں اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ ہے، اس لیے انِ کیمرہ سماعت کی جائے تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی۔ اٹارنی جنرل نے سر بہ مہر لفافے میں انعام الرحیم کی گرفتاری کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جس پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ میں جو لکھا ہے وہ سب شائع ہوچکا ہے۔ چیزوں کو ڈراما ٹائز نہ کریں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ عدالت انعام رحیم کی رہائی کا مختصر فیصلہ معطل کردے۔ جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا مختصر فیصلہ آیا ہے۔ لگتا ہے ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا۔ تفصیلی فیصلہ آنے دیں، اس وقت تک عدالت کے مختصر فیصلے پر عملدرآمد کریں۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو سپریم کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کی جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کرنل انعام الرحیم کو عدالت میں پیش کردیتے ہیں۔ وقفے کے بعد عدالت نے وفاقی حکومت سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے دریافت کیا کہ تحریری جواب میں بتایا جائے کہ قومی سلامتی کا کونسا ایشو ہے جس کی وجہ سے مقدمہ چیمبر میں سنیں؟
عدالت نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چاہیں تو کل کرنل (ر) انعام الرحیم کو پیش کردیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میری استدعا ہے کہ عدالت ایڈووکیٹ کو پیش کرنے کے حکم کا دوبارہ جائزہ لے۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ مواد دکھائیں جس کی بنیاد پر ایسا کریں، آپ ہمیں دستاویزات دکھائیں انہیں پبلک نہیں کریں گے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ہم دستاویزات سے دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس مقدمے میں کون سا قومی سلامتی کا معاملہ ہے؟ اس دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قلب حسن بھی روسٹروم پر آگئے ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا کیا معاملہ ہے ہمیں سب معلوم ہے۔ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے عدالت میں آرمی ایکٹ کی کاپی فراہم کی تھی۔ قلب حسن نے کہا کہ انعام الرحیم وکیل ہیں ان کی اہل خانہ سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔
بعدازاں سپریم کورٹ نے حکومت سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔