نظریہ پاکستان کا ملبہ

  • سوموار 13 / جنوری / 2020
  • 14730

1947سے پہلے کُل ہند مسلم لیگ نے جو بیانیہ ایجاد کیا اسے دو قومی نظریے کا نام دیا گیا اور یہ نظریہ مسلمانوں کے لیے ایک سنہرا اور سہانا خواب بنا کر پیش کیا گیا ۔ بنیادی طور پر یہ ایک خوبصورت خیال تھا کہ ایک مذہب کے ماننے والے ایک ایسا ملک بنائیں جو آسمان کے حتمی دینی نظریے کی عملی تعبیر ہو ۔

اور ایک اُلوہی  مذہب کے ماننے والے مملکتِ خُداداد کو لاالہ کی بنیاد پر تعمیر کریں اور ایک ایسا معاشرہ بنائیں جو اقتصادی مساوات ، انصاف ، حقوق العباد  کی ضمانت ، امن ، ترقی اور خوش حالی پر مبنی ہو لیکن اس پہلے کہ ہم اپنی منزل پا لیتے ، ہمارا کاروانِ اسلام دو ٹُکڑوں میں بٹ گیا ۔ ملک کے اکثریتی صوبے نے اقلیتی صوبے کو داغِ مفارقت دے دیا یا زیادہ صحیح الفاظ میں فارغ خطی دے دی ۔ یہ وہ المیہ ہے جو عمر بھر نظریہ  پاکستان کے علمبرداروں کے سروں پر اذیت کا بھوت بن کر منڈلاتا رہے گا ۔ لیکن اس سانحے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ بڑا پاکستان چھوٹا رہ گیا جس پر حکمرانی بہت آسان تھی لیکن ہم نے نصف صدی میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ چھوٹے پاکستان پر حکمرانی بھی ہمارے بس کی بات نہیں ۔ہماری حکمران قوتوں نے ملک کو اس حد تک کرپٹ کردیا ہے کہ نئی نسل کرپشن کی گھٹی لیتی ہے ، کرپشن کا جھولا جھولتی ہے ، کرپشن کے سکولوں میں پڑھتی ہے اور کرپشن میں پی ایچ ڈی کر کے ڈگریاں لہراتی ، ایک دوسرے کو برباد کرنے اور  مخالفین کو لوحِ پاکستان سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے کو اپنی عبادت سمجھتی ہے ۔

یہ آج کی بات ہے کہ اوکاڑہ میں وکیلوں کے دو گروہوں نے ایک دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ الیکشن ہارنے والے گروہ نے جیتنے والی پارٹی کو گریبان سے جا پکڑا اور ایک دوسرے کی وکالت ریزی کر کے رکھ دی ۔ یہ واقعہ اُس واقعے کا تسلسل ہے جس میں وکیلوں نے ایک ہسپتال پر حملہ کیا اور ہسپتال کا پلنگ سے پلنگ بجادیا تھا ۔ اور یہ اس قومی رویے کا عکس ہے جس میں سیاستدان ، حکمران اور سابقے ایک دوسرے کو چور ، ڈاکو ، لُٹیرے ، نالائق ، نا اہل اور اناڑی پن کے پھول پیش کرتے رہتے ہیں ۔ تعلیم گاہوں میں طلبا ء اپنے  اساتذہ کی آنکھوں کے گوشے متورم کرنے کی راہ پر چل نکلے ہیں ۔اور تو اور  ڈاکہ زنی اب ایک مخلوط پیشہ ہے جس میں مرد عورت کی تمیز باقی نہیں رہی ۔ بلکہ اب ایسی خواتین بھی ایجاد ہوگئی ہیں جو اپنے شوہروں سے خُلع  لینے کو تو  کفر سمجھتی ہیں مگر  شوہر کو  موت کے چنے ناکوں چبوانا سہل سمجھتی ہیں ۔ کم سن بچے اور بچیاں جنسی شکاری درندوں کی مرغوب غذا بن کر رہ گئےہیں ۔اور یہ کام صرف گلی کوچوں سے بچوں اور بچیوں کو اغوا کر کے ہی نہیں ہوتا بلکہ دینی مدرسوں میں بھی ہوتا ہے مگر مذہبی ادارے اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے  اور نہ ہی اس پر اپنے ردِ عمل کا واضح اور دو ٹوک  اظہار کرتے ہیں ۔  حال ہی میں مانسہرہ کے ایک شمس نامی  قاری کی واردات کا بڑا چرچا رہا ہے جو واردات کے بعد مفتی کفایت اللہ کے چرنوں میں جا بیٹھا تھا مگر بھلا ہو مفتی کفایت کا کہ انہوں نے یہ بلا سر سے ٹال کر پولیس کے حوالے کر دی ۔ اس واقے پر نہ تو مولانا فضل الرحمان کاموقف آیا اور نہ ہی جماعتِ اسلامی کے منشی سراج الحق کے کان پر جوں رینگی ۔ سب پنجابی  محاورے میں دڑ وٹ کے ہی رہے ۔

یہ سارا منظر نامہ ایک ایسے معاشرے کا  ہے جو اخلاقی اور روحانی بیماری سے سکتے میں ہے ۔ اور یہ اس بات کی گواہی ہے کہ قوم کی اخلاقی تربیت کرنے والے ادارے نا پید ہیں ۔ کون سے ادارے ؟ مذہبی ادارے جن کا کام یہ تھا کہ وہ قوم کی اخلاقی تربیت کرتے ، اُنہیں خُلقِ محمدی سکھاتے ۔ اُن کو برائی اور بے حیائی سے باز رکھنے کی راہ پر چلاتے ۔ اور بجائے اس کے کہ وہ راشی پولیس اور سرکاری اہل کاروں کو رشوت سے باز رکھنے کے لیے جہاد کرتے ، وہ اپنی دین فروشی کی کمائی آنکھیں بند کر کے  بڑے اطمینان سے کھا رہے ہیں اور تبلیغ کی بانسری بجا رہے ہیں جب کہ پاکستان کا مطلب سچ مچ  لا الہ ثابت کرنے کے لیے انہیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے تھا ۔ انہیں مدرسوں میں ایسے قاری اور اساتذہ متعین کرنے چاہیے تھے جن کی پاکدامنی کی ضمانت موجود ہوتی ۔

ناروے جیسے غیر اسلامی ملک میں سکول میں اساتذہ کو پولیس کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا پڑتا ہے کہ وہ کسی غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے ہیں ۔ لیکن پاکستان تو نظریہ  پاکستان کا نعرہ لگا کر دودھوں دھلا معاشرہ بن گیا ہے کہ یہاں مذہبی اداروں کو اس قسم کے تصدیق نامے کی ضرورت نہیں ہوتی خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو ۔ پاکستان میں تشدد کے رویے جس طرح سے پرورش پا رہے ہیں وہ اس معاشرے کی  جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں اور کوئی ایسا ادارہ نہیں جو ان رویوں کا سدِ باب کر سکے ۔

اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ پاکستان میں وہ پاکستانی وجود میں نہیں آ سکا جو اپنے سیاسی باپ قائد اعظم کے پاکستانی سکول میں داخل ہو کر  دو قومی نطریے کی تین جماعتیں پاس کرتا ۔وہ جماعتیں  کون سی  ہیں ْ؟ وہ جماعتیں ہیں :

۱۔ اتحاد  ۲۔ تنظیم ۔ ۳ ۔ ایمان

اتحاد کی کہانی یہ ہے کہ موجودہ پاکستان نونیوں ، پیپلیوں ، یوتھیوں ، مہاجروں اور ملاؤں میں بٹا ہوا ہے جنہوں نے کبھی قومی اتحاد کی ضرورت کو محسوس ہی نہیں کیا کیونکہ ان کی دوڑ تو صرف اقتدار کی  کر سی تک ہے ۔یعنی ان کے پاس اقتدار ہو گا  تو سب کچھ ہوگا۔اور اقتدار کے بغیر کون سا اتحاد اور کون سا دو قومی نظریہ۔ کیونکہ دو قومی نظریہ در اصل سیاسی اقتدار کا نظریہ ہے جس میں قوم  کا کوئی کردار نہیں ۔ سارا کام ادارے کرتے ہیں  اور اگر ضرورت پڑے نظریہ ضرورت بھی دو قومی نظریے کا متبادل بن سکتا ہے ۔

جہاں تک تنظیم یعنی نظم و ضبط کا معاملہ ہے تو اس میں بھی ہم نے دو معیار وضع کر رکھے ہیں کہ مراعات یافتہ طبقوں کے لیے الگ قانون ہے اور عام پاکستان کے لیے الگ ۔ اور عام پاکستانی تو وہ ڈھور دنگر ہیں جنہیں حکمرانی کی لاٹھی سے ہانکا جاتا رہا ہے ۔لگ بھگ چالیس برس تک جی ایچ کیو نے براہِ راست حکمرانی کی مگر وہ معاشرے کو مشرف بہ تنظیم نہ کر سکے اور رہا ایمان کا معاملہ تو وہ رشوت ، کرپشن ، منی لانڈرنگ اور ذو قانونیت کے ہوتے ہوئے پاکستانیت کا رکن بن ہی نہیں سکتا ۔ رہے نام اللہ کا ۔

 اور پاکستانیت کے تین ارکان کی عدم موجودگی میں اس معاشرے کے ملبے پر بیٹھی یہ قوم اپنے ماتم کے سوا کر ہی کیا سکتی ہے ۔