ملک بھر میں شدید بارشوں، برفباری کے باعث 82 افراد جاں بحق
- منگل 14 / جنوری / 2020
- 3970
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں شدید بارشوں، برفباری کے باعث گزشتہ 3 دنوں میں مجموعی طور پر 82 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔
شدید بارشوں کے باعث ہزارہ ڈویژن، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور مالاکنڈ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے شاہراہِ قراقرم سمیت دیگر اہم شاہراہیں اور سڑکیں بند ہوگئیں جبکہ چترال کا صوبے کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ این ڈی ایم اے کی جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ موسم کی خراب صورتحال کے باعث سب سے زیادہ 61 افراد آزاد کشمیر میں جاں بحق ہوئے جبکہ صوبہ بلوچستان میں بارشوں، برفباری کے مختلف واقعات میں 20 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
ملک بھر میں بارشوں اور برفباری کے باعث مختلف حادثات میں 29 افراد زخمی ہوئے جبکہ 35 مکانات کو نقصان پہنچا۔ ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹوئٹ پیغام میں کہا ہے کہ انہوں نے این ڈی ایم اے، فوج اور وفاقی وزرا کو فوری طور پر آزاد کشمیر کے عوام سے تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سب سے زیادہ افراد آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں برفانی تودہ گرنے کے سبب جاں بحق ہوئے اور اس حادثے کے نتیجے میں 2 درجن مکانات، متعدد دکانوں اور ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا۔
واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوجی اہلکاروں اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ حکام کے ساتھ مل کر ریسکیو اور ریلیف کے کام انجام دیے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے گاؤں سورنگن میں برفانی تودہ گرنے سے 19 افراد دب کر جاں بحق ہوئے۔ ریسکیو اہلکار تودے کے نیچے دبے دیگر افراد کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ترجمان این ڈی ایم اے نے بتایا کہ برف میں پھنسے ہوئے افراد کو بذریعہ ہیلی کاپٹر نکالنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور متاثرین کے لیے راشن اور ٹینٹ مظفر آباد سے روانہ کر دیے گئے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر حکومت کے سینئر عہدیدار فیاض علی عباسی نے کہا کہ صرف وادی نیلم میں شدید برف باری کے باعث مختلف حادثات میں 59 افراد جاں بحق ہوئے جن کی لاشیں برف کے نیچے سے نکالی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر 53 افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا۔
ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ برفباری کے نتیجے میں کچے مکانات گرنے سمیت مختلف حادثات میں 20 افراد جاں بحق ہوئے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے تمام ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی اور دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے بھر پور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
کوئٹہ کے صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے کنٹرول روم میں مختلف حادثات میں 17 افراد کے جاں بحق اور اتنے ہی زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ صورتحال کی سنگینی کی وجہ سے پی ڈی ایم اے نے مستونگ، قلعہ سیف عبداللہ، کیچ، زیارت، ہرنائی اور ضلع پشین میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔
خوجک ٹاپ پر شدید برفباری کی وجہ سے زیارت اور کوئٹہ کے درمیان مواصلاتی رابطے شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ کوئٹہ چمن شاہراہ بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔
آزاد کشمیر اور بلوچستان کے علاوہ سخت سرد موسم میں خیبرپختونخوا کے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ پنجاب کے شہری بھی بارشوں سے متاثر ہوئے۔ صوبہ پنجاب میں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 3 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق، 13 زخمی ہوئے۔
پاکستان کےصوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال اور مضافات میں پیر کی رات سے شدید برف باری کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث چترال بھر میں تمام شاہراہیں بند ہوگئیں۔ چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد زمینی رابطہ لواری ٹنل بھی کل براڈام کے مقام پر برفانی تودہ گرنے سے بند ہوگیا۔
چترال کے علاقے کیلاش سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی ڈرائیور نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے لواری سرنگ روڈ کو ابھی تک صاف نہیں کیا اور محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس نے بھی سڑکوں کی صفائی پر ابھی کام شروع نہیں کیا۔ چترال کے گاؤں گرم چشمہ میں سڑک کی بندش کی وجہ سے 40 ہزار افراد کی زندگیاں بری طرح متاثر ہیں اور ان لوگوں کا بازار تک آنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
شدید برف باری کے باعث چترال بازار میں آگ جلانے کے لیے لکڑیوں کی بھی شدید قلت ہے اور لوگ زیادہ تر کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کے لیے جنگل کی لکڑی جلاتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات کی کٹائی میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔