بھارت کا چین سے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر نہ اٹھانے کا مطالبہ
- جمعرات 16 / جنوری / 2020
- 7180
بھارت نے چین سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کi سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر اٹھانے سے گریز کرے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے بتایا کہ نئی دہلی نے بیجنگ پر زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کا دو طرفہ معاملہ ہے۔
واضح رہے کہ چین کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مبصر مشن سے نظرثانی کی درخواست کی جس کے بعد نئی دہلی کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری ہوا۔ رویش کمار نے کہا کہ چین کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں عالمی اتفاق رائے پر غور کرنا چاہیے اور اسے اقوام متحدہ میں اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ 15 رکنی کونسل کے بیشتر ممالک نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کا مل کر حل نکالیں۔
اقوام متحدہ میں چین کے سفیر نے مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں اسلام آباد اور نئی دہلی کے مابین تنازعات میں مزید کشیدگی پر خبردار کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ بیجنگ کی جانب سے بلایا گیا سلامتی کونسل کا اجلاس دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔.
واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے نے پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کردیا تھا۔ اسی روز سے وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے اور مظاہروں کو روکنے کے لیے کشمیری قیادت اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے بعد سے تاحال مواصلاتی بندش جاری ہے۔
دنیا میں نسل کشی کی روک تھام کے لیے وقف عالمی ادارے جینو سائڈ واچ نے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر اور اس کی ایک ریاست آسام کے لیے انتباہ جاری کیا تھا۔ جینوسائڈ واچ کی جانب سے اقوام متحدہ اور اس کے اراکین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بھارت کو خبردار کریں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی نہ کرے۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہان حکومت کی 19 ویں کونسل میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ رواں برس شنگھائی تعاون تنظیم کی میزبانی بھارت کررہا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کے طریق کار کے مطابق تنظیم کے تمام 8 ممبروں کے ساتھ 4 مبصرین ریاستوں کو مدعوکیا جائے گا۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں جون 2017 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے مکمل ممبر بنے تھے۔
خیال رہے کہ روس، چین، کرغیز جمہوریہ، قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان کے صدور نے 2001 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد رکھی تھی تاکہ کثیرالجہتی اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔