امریکا ماضی کی طرح افغانستان کو نظر انداز نہ کرے: وزیر خارجہ
- جمعہ 17 / جنوری / 2020
- 4540
پاکستان نے کہا ہے کہ امریکا، افغانستان سے فوجیوں کے انخلا میں کامیاب ہو بھی جائے تو اسے افغانستان کی تعمیر نو سے منسلک رہنا چاہیے۔
واشنگٹن میں امریکی سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کو خبردار کیا کہ ماضی کی طرح دوبارہ افغانستان کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اگر معاہدہ ہو بھی گیا تو چیلنجز برقرار رہیں گے۔ اس لیے امریکا، اس کے دوستوں اور اتحادیوں کو مزید ذمہ داری کے ساتھ انخلا کرنا ہوگا
واضح رہے کہ 2001 میں نیویارک کے ٹوئن ٹاور پر حملے کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا تھا۔ تاہم اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے 12 ہزار امریکی فوجیوں کا انخلا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات میں عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے تاکہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہوسکے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اس وقت امریکی دورے پر ہیں۔ واشنگٹن پہنچنے سے قبل انہوں نے تہران اور ریاض کا دورہ کیا تھا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ طالبان تشدد میں کمی چاہتے ہیں۔ وہ بے وقوف نہیں حقیقت پسند ہیں اور وہ بھی جنگ سے) تھک گئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے امریکی سینیٹ کمیٹی برائے غیر ملکی تعلقات کے اراکین کے ساتھ ملاقات کی۔
شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ انہوں نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار، مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی لاک ڈاؤن پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ واشنگٹن میں وزیر خارجہ نے امریکی انڈر سیکریٹری دفاع جان رووڈ سے بھی ملاقات کی جس میں امریکا اور پاکستان کے دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں کے علاوہ علاقائی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق انڈر سیکریٹری نے وزیر خارجہ کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے بریف کیا۔ وزیر خارجہ نے انڈر سیکریٹری کو جنوبی ایشیائی خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے کی گئی پاکستان کی متعدد کوششوں سے آگاہ کیا۔
وزیر خارجہ نے انڈر سیکریٹری کو کشیدگی کے خاتمے کے لیے خطے کے ممالک کے اپنے حالیہ دوروں کے بارے میں آگاہ کیا اور کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنے ہمسایے میں عدم استحکام کے خطرے کے حوالے سے گہری تشویش ہے اور امریکا، ایران کے مابین کشیدگی کے پرامن حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔