شاہ محمود قریشی کی امریکی وزیر خارجہ اور مشیر قومی سلامتی سے ملاقاتیں
- ہفتہ 18 / جنوری / 2020
- 5420
وزیر خارجہ مخدوم قریشی نے امریکا کے مشیر قومی سلامتی ایمبیسیڈ رابرٹ او برائن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ رابرٹ و برائن کے مشیر قومی سلامتی بننے کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی اور امریکی مشیر قومی سلامتی نے باہمی تعلقات اور مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو درپیش چیلنجز کے بارے میں گفتگو کی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس پاکستان اور امریکا کے درمیان دیر پا اور وسیع البنیاد مشترکہ نقطہ نظر بیان کیا تھا۔ اس وژن کو سمجھنے کے لیے دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے امریکی مشیر قومی سلامتی کو مشرق وسطیٰ اور خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے برائن او رابرٹ کو خلیجی خطے میں اپنی سفارتی ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا اور تناؤ کم کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے ان تحفظات سے آگاہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام ہمسایہ ممالک اور عالمی معیشت پر اثر انداز ہوگی انہوں نے پاکستان کی جانب سے خطے کے امن کے لیے کردار ادا کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔
وزیر خارجہ نے امریکی مشیر قومی سلامتی کو بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں بریف کیا جس کی صورتحال اگست 2019 میں کرفیو کے نفاذ کے بعد مزید بگڑ چکی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جموں کشمیر کے حوالے سے ثالثی کی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکا کو بھارت پر مقبوضہ وادی کا لاک ڈاؤن ختم کروانے، لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی رکوانے، کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے اور کشمیروں کو استصواب رائے کا حق دلوانے پر زور دینا چاہئے۔
وزیر خارجہ نے افغانستان میں امن و مفاہمت کے لیے پاکستان کی حمایت کو دہرایا۔ اس موقع پر امریکی مشیر قومی سلامتی رابرٹ او برائن نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے افغانستان کے پر امن سیاسی حل کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ واضح رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر امریکا کا دورہ کر رہے ہیں۔
اس سے قبل شاہ محمود قریشی سعودی عرب اور ایران کا دورہ کرچکے ہیں جس میں دونوں ممالک کی قیادت سے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دورے کے پہلے دن وہ نیویارک پہنچے اور اقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر سے ملاقات کی۔
وزیر خارجہ نے اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے افغانستان کے سیاسی تصفیے، افغان امن عمل اور پرامن ہمسائیگی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ اور مصالحانہ کاوشوں کو سراہا۔