کشمیر میں آفت اور عمران خان کا پیغام عافیت
- تحریر اطہر مسعود وانی
- ہفتہ 18 / جنوری / 2020
- 8400
کشمیر اور کشمیریوں کو جابرانہ اور غیر انسانی طور پر تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول سے ملحقہ وادی نیلم کے علاقے سرگن میں برفانی سلائیڈنگ سے درجنوں معصوم شہریوں کی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ اب تک نیلم ویلی کے مختلف علاقوں میں ستر سے زائد شہری گھروں پہ برفانی تودے گرنے جاں بحق اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
اس سال غیر معمولی طور پر برفباری سے آزاد کشمیر کے دور دراز کے علاقوں میں آبادیوں کی وسعت کی وجہ سے برفانی تباہ کاریوں کے متعدد واقعات پیش آ رہے ہیں۔ زخمیوں میں شامل ایک چھ سال کی معصوم بچی صفیہ،جسے برفانی تودے سے بیس گھنٹے بعد زندہ نکلا گیا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جمعرات کو مظفر آباد کے فوجی ہسپتال میں دم توڑگئی۔ ایک دن پہلے ہی وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے مظفر آباد کے دورے کے موقع پر عیادت کے دوران اس بچی کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا۔ہسپتال کی سی ٹی سکین مشین عرصے سے خراب ہونے کے باعث پرائیویٹ طور پر ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ بچی کو دوسرے زخموں کے علاوہ ہیڈ انجری بھی ہوئی تھی۔زخمیوں کو فوج کے ہیلی کاپٹر سے مظفر آباد منتقل کیا جا رہا ہے۔ اگر اس شدید زخمی ہونے والوں کو براہ راست راولپنڈی کے فوجی ہسپتال سی ایم ایچ پہنچایا جائے تو مناسب ہے اور شاید اس صورت معصوم صفیہ کی جان بچ جاتی۔
جب سے وزیر اعظم عمران خان نے سکون کے متلاشی عوام کو نوید سنائی ہے کہ سکون مرکے، قبر میں جا کرہی ملتا ہے تو عوام کا رہا سہا سکون بھی غارت ہو گیا ہے۔ پہلے عوام جانتے بوجھتے ہوئے بھی حکومت کے سبز باغ دیکھ کر دل کو بہلا لیتے تھے۔ لیکن اب وزیر اعظم عمران خان نے ہی کہہ دیا ہے کہ بات سال دو سال،پانچ سال کی نہیں بلکہ سکون قبر میں جا کر ہی نصیب ہوتا ہے۔تو عوام کو اپنے کفن دفن کے اخراجات اور اس حوالے سے حکومت کے پاس اپنی بکنگ کرانے کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔
اب شیخ ابراہیم ذوق کو کہاں سے لائیں کہ وہ عوام کی طر ف سے وزیر اعظم عمران خان سے عرض کرے کہ: اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے/مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔ مرنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کہاں ہاتھ آئے گا کہ عوام اس کا محاسبہ کر سکیں۔
شاید کسی خیر خواہ نے وزیر اعظم عمران خان کے ذوق پرواز کو بلند کرنے کے لئے انہیں غالب کا یہ شعر یاد کرانے کی کوشش کی ہو کہ: قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں /موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں۔یہ شعر سننا تھا کہ عوام کو جلد ہی تقدیر بدل جانے کی نوید با ر بار سنا کر خود بھی بور ہونے والے وزیر اعظم عمران خان کو جیسے عوام کو مناسب جواب دینے کا راستہ مل گیا۔ وزیر اعظم عمران خان اتنے مشکل الفاظ والا شعر کیسے یاد رکھتے،انہوں نے اس شعر کا اپنی سمجھ کے مطابق آسان ترجمہ کر دیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر کے دوران غالب کے اس شعر کی آسان تشریح کرتے ہوئے عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کے خاتمے کی حتمی ڈیڈ لائین دے دی۔دے کیا دی بلکہ اس کی بشارت سنا دی۔اب عوام شکرانے کے نفل بھی ادا کریں تو حق ادا نہ ہو گا کہ کن اہل نظر نے پاکستان کی وزارت عظمی کے لئے عمران خان جیسی بلند عزم، بالا پرواز اور روحانی کرامات کی حامل شخصیت کا انتخاب کیا تھا اور اس کو ہی پاکستان کی ایسی تقدیر بتا دیا کہ جس کے کامیاب یا ناکام ثابت ہونے کا خود ان کو بھی یقین نہیں ہے۔