اتنی مشکل بھی تو نہ تھی!
- تحریر
- ہفتہ 18 / جنوری / 2020
- 6450
صنعت اور ایکسپورٹس کے شعبے پر ساٹھ کی دہائی لے کر اب تک ہم نے کسی بھی حکومت سے زیادہ توجہ دی ہے: عمران خان وزیر اعظم نے تاجروں کے نمائندوں سے اظہارِ خیال میں کہا۔ وزیر اعظم کے پاس یقینا اس دعوے کے لئے بہت سی دلیلیں ہوں گی، لہذٰا ان کا دعویٰ سر آنکھوں پر۔
البتہ اس وقت صنعتی شعبے اور ایکسپورٹس جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کے پیشِ نظر یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ ان کی حکومت ساٹھ کی دِہائی سے لے کر اب تک کی تمام حکومتوں سے زیادہ سنجیدگی اور فوری توجہ دے۔ صورت حال ہی کچھ ایسی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاشی اعداد و شمار پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے قطع نظر زمینی حالات سنگین خطرات کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں دنیا کی ایک معروف ریٹنگ کمپنی Fitch نے وسط مدتی ریٹنگ میں قدرے مستحکم کا درجہ دیتے ہوئے ان اہم عوامل کی نشاندہی بھی کی جن کا رخ اگر مثبت نہ ہوا تو یہ استحکام ریت میں پانی کی طرح جذب ہو کر رہ جائے گا۔ جی ڈی پی کی شرح نمو اڑھائی فیصد سے کچھ زائد رہنے کی توقع ہے، قرضوں کے بوجھ نے ملک کی کمر دوہری کر رکھی ہے، ٹیکس محاصل کا مشکل ٹارگٹ اگر پورا نہ ہوا تو بجٹ خسارہ بے قابو ہو جائے گا۔ افراطِ زر اور شرح سود اس قدر زیادہ ہیں کہ کاروباری لاگت اور حکومتی ادائیگیوں کا بوجھ جان کا روگ بنا ہوا ہے اگر ٹیکس محصولات کا ٹارگٹ پورا نہ ہوا تو استحکام کو ڈگمگاتے دیر نہیں لگے گی۔
وزیراعظم کی بات مانے لیتے ہیں لیکن کیا کیجئے کہ زمینی حالات ان کے اس دعوے کی گواہی نہیں دے رہے ۔ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں ساڑھے چھ فی صد کمی واقع ہوئی۔ کچھ ایسی ہی دُہائی درمیانے اور چھوٹی صنعتوں والے بھی دے رہے ہیں۔ رہی ایکسپورٹس تو پچھلے چھ سال سے معمولی کمی بیشی کے ساتھ وہی بائیس تئیس ارب ڈالر کے لگ بھگ اٹکی ہوئی ہیں۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران برآمدات میں صرف 3.2% کا معمولی اضافہ ہوا۔
ہماری سب سے بڑی برآمدات ٹیکسٹائلز پر مشتمل ہیں۔ گزشتہ سال بھی کپاس کی فصل بمشکل ایک کروڑ گانٹھ سے کچھ زائد تھی جبکہ حالیہ سیزن میں نوے لاکھ بھی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ایک کروڑ پچاس لاکھ گانٹھ کی سالانہ ضرورت ہوتی ہے۔ ساٹھ لاکھ گانٹھ کی درآمد پر دو ارب ڈالرز سے زائد زرِ مبادلہ خرچ ہو جائے گا، جبکہ دوسری طرف ٹیکسٹائلز کی سالانہ برآمدات بمشکل بارہ چودہ ارب ڈالرز ہیں۔دوسری طرف کپاس کی پیداوار میں کمی سے زرعی شعبہ کم از کم تین سو ارب سے زائد کی ممکنہ آمدنی سے محروم رہ گیا۔ پچھلی حکومتوں کے ادوار میں بھی ایک آدھ سال کو چھوڑ کر کپاس ملکی ضروریات سے کم رہی اور قیمتی زرِمبادلہ اس کمی کو پورا کرنے میں صرف ہوا۔
اس پسِ منظر میں گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر کی بات بہت توجہ طلب ہے۔ اسی ہفتے انہوں نے کراچی میں ٌ Firms and Growth" کے نام سے سے ایک سیمینار میں کہا: دنیا میں تیز ترین ترقی کرنے والی معیشتیں 2001 سے لے کر اب تک اوسطاٌ سات فی صد سالانہ کے حساب سے نمو پا رہی ہیں۔ اگر ہمیں بھی ترقی کی یہی رفتار درکار ہے تو لازم ہے کہ ہم بھی اسی رفتار سے اپنی برآمدات کو بڑھائیں۔ اس سیمینار میں ان کے ہمراہ وزیر منصوبہ بندی بھی تھے اور معاون خصوصی برائے خزانہ بھی تھے۔ سوال جواب کے سیشن میں صنعتکاروں نے اپنے دُکھڑے روئے۔ جواب میں انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ دنیا میں مقابلے کے لئے اپنی مسابقت یعنی Competitiveness بڑھائیں۔ کیسے بڑھائیں؟ بحث بڑھی تو معاون خصوصی نے بات یہاں ختم کی کہ حکومت آپ کوانگلی پکڑ کر سمجھانے سے تو رہی یعنی کوچنگ تو نہیں کر سکتی، یہ آپ کا کام ہے۔
برآمدات بڑھانے کا مشورہ دینا آسان ہے، سبھی سیانے یہی کہتے آئے ہیں لیکن حقیقتاٌ ہوتا کیا آیا؟ 2003 میں برآمدات ساڑھے گیارہ ارب ڈالرزتھیں اور تجارتی خسارہ ایک ارب ڈالرز سے کچھ زائد۔ 2008 تک برآمدات بڑھ کر انیس ارب ڈالرز ہو گئیں لیکن اس دوران درآمدات کا سیلابی ریلا اس قدر منہ زور ہوا کہ تجارتی خسارہ پہلی بار بیس ارب ڈالرز سے بھی زائد ہوگیا یعنی کل برآمدات سے بھی زائد۔ چادر سے باہر پاؤں پھیلانے کا کام بعد از اس سے بھی تیز ہو گیا۔ 2018 میں برآمدات تو تئیس ارب ڈالرز ہوئیں لیکن درآمدات کا ریلااس قدر بڑھا کہ تجارتی خسارہ تقریباٌ دو گنا ہو گیا یعنی ساڑھے سینتیس ارب ڈالرز۔
برآمدات کا جی ڈی پی میں حصہ ان سالوں میں تیرہ فی صد سے کم ہو کر فقط آٹھ فی صد کے لگ بھگ رہ گیا۔جبکہ ان سالوں میں ہمارے خطے کی دیگر معیشتوں نے اپنی برآمدات میں دو سے تین گنا اضافہ کیا۔ برآمدات میں یہ جمود کیوں ہے؟ ایک وجہ تو ہماری برآمدی اشیا میں کم ویلیو والی اشیا کا حصہ زیادہ ہے۔ تین چوتھائی تو چادر، چاول اور چمڑے کی مصنوعات پر مشتمل ہے یعنی ٹیکسٹائلز، چاول اور لیدر۔
برآمدات کا انحصار صنعتی پیداوار پر ہوتا ہے۔ اس شعبے میں بھی وہی کہانی ہے۔ صنعتی پیداوار کا حصہ جی ڈی پی میں 2003 میں بائیس فی صد کے لگ بھگ تھا جو 2018 میں سکڑ کر اٹھارہ فی صد رہ گیا۔ طویل مدتی رجحان دیکھا جائے تو 1990-2015 کے دوران اوسطاٌ سالانہ صنعتی ترقی فقط پانچ فی صد رہی۔ اس میں سے اگر ان دو چار سالوں کو الگ کر دیں جب ترقی کی شرح زیادہ تھی تو اس عرصے کی سالانہ اوسط نمو فقط ساڑھے تین فی صد ہے۔
اس ترقی معکوس کو دیکھتے ہوئے کئی معیشت دان سالوں سے دُہائی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں قبل از وقت ہی صنعتی عمل معکوس ہو رہا ہے یعنی Deindustrialization۔ صنعتی شعبے میں سکڑاؤ عموما ٌ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں اس وقت ہوتا ہے جب ان کی معیشتیں ترقی کی ایک خاص حد پار کر جاتی ہیں اور ان میں سروسز سیکٹر کا حصہ بڑھ جاتا ہے۔ ہمارے کیس میں تو یہ تباہ کن ہے کہ ہم تو ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ ایسے عالم میں صنعتی پیداوار کم ہونے کا مطلب ہے مجموعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں، روزگار کے مواقع محدود، ٹیکس محصولات کم، برآمدات کم ، نئی سرمایہ کاری بھی کم وغیرہ وغیرہ۔
ایسا کیوں ہوا؟ کیا وجوہات رہیں؟ بہت کچھ لکھا اور کہا گیا۔ موٹی موٹی باتیں کل بھی وہی تھیں اور آج بھی کم و بیش وہی ہیں۔ ہمارا معاشی نظام فرسودہ اور ٹیڑھی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ کم ویلیو اشیا کی پیداوار میں پھنسے ہوئے ہیں، دنیا کے مقابلے میں مسابقت میں پیچھے ہیں، پالیسیوں میں تسلسل نہیں، ٹیکس کا نظام پیچیدہ اوراسکا بوجھ انڈسٹری پر بہت زیادہ ہے، برآمدات سے ایک طرح کا بیر ہے یعنی Anti export bias، امپورٹ کی حوصلہ افزائی ہے، بجلی اور گیس کے نرخ خطے میں سب سے زائد، لیبر کی پیداواری صلاحیت کم ہے۔۔۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔ اس پر مستزاد سال ہا سال سے دہشت گردی کی جنگ اور اس کے تباہ کن اثرات۔
وزیر اعظم اپنی دانست میں یقینا ٹھیک کہہ رہے ہوں گے ساٹھ کی دِہائی سے لے کر اب تک ان کی حکومت نے کسی بھی اور حکومت سے صنعتوں اور ایکسپورٹس پر زیادہ توجہ دی ہے۔ زمینی حالات کی سنگینی کا بھی یہی تقاضا ہے ان کی توجہ گزشتہ تمام حکومتوں سے زیادہ ہو کہ جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی والا معاملہ ہے، پاکستانی معیشت کبھی اس قدر مشکلات میں گھری بھی تو نہیں تھی۔