ہیری اور میگھن شاہی خطابات اور فرائض سے دستبردار ہو گئے

  • اتوار 19 / جنوری / 2020
  • 6440

برطانیہ میں بکنگھم پیلیس کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن آئندہ شاہی خطابات استعمال نہیں کریں گے۔ شاہی فرائض کی انجام دہی کے لیے ملنے والے عوامی فنڈز اب انہیں نہیں دیے جائیں گے۔

شہزادہ ہیری اور میگھن اب باضابطہ طور پر ملکہ برطانیہ کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے۔ ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس (شہزادہ ہیری اور میگھن) کا کہنا ہے کہ وہ فروگمور کاٹیج کی تزین و آرائش اور بحالی کے لیے ٹیکس دہندگان کی فنڈز سے اٹھنے والے 24 لاکھ پاؤنڈز کی رقم بھی واپس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، فروگمور مستقبل میں ان کا گھر رہے گا۔

بکنگھم پیلیس کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کا اطلاق رواں برس موسم بہار سے ہو گا۔ یہ فیصلے اس وقت سامنے آئے جب شاہی جوڑے نے رواں ماہ یہ اعلان کیا کہ وہ سینیئر رائلز  کے عہدوں سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد گزشتہ پیر کو اس شاہی جوڑے کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے شاہی خاندان کے سینیئر اراکین میں بات چیت ہوئی۔

ملکہ برطانیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کئی ماہ کی بات چیت اور حالیہ گفتگو کے بعد وہ (ملکہ) بہت خوش ہیں کہ ہم نے مل کر اپنے پوتے اور ان کے خاندان کے لیے ایک تعمیری اور معاون راستہ تلاش کر لیا ہے۔  بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیری، میگھن اور آرچی میرے خاندان کا عزیز حصہ رہیں گے۔

ملکہ نے کہا  کہ میں ان چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہوں جس کا سامنا انہوں نے گزشتہ دو برس کے دوران کیا ہے۔ میں ان کی آزادانہ زندگی گزارنے کی خواہش کی حمایت کرتی ہوں۔ ’میں ملک بھر میں، دولت مشترکہ کے ممالک میں اور اس سے بھی آگے ان کے جذبے کے ساتھ کیے گئے کام پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ خاص طور پر جس طرح میگھن بہت جلدی شاہی خاندان کا حصہ بنیں ہیں اس پر مجھے فخر ہے۔‘

ملک نے کہا کہ میرے پورے خاندان کو امید ہے کہ آج ہونے والا معاہدہ ان کو اپنی آئندہ پرسکون اور خوشگوار زندگی کی ابتدا کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ بکنگھم پیلیس کا کہنا ہے اب وہ مستقبل میں شاہی فرائض کی انجام دہی کے لیے عوامی فنڈز حاصل نہیں کر سکیں گے۔ چونکہ وہ اب باضابطہ طور پر ملکہ کی نمائندگی نہیں کریں گے۔ ہیری اور میگھن نے واضح کیا ہے کہ وہ  مستقبل میں ملکہ کی اقدار کے مطابق  ہی اقدام کریں گے۔

ہیری اور میگھن شاہی خاندان کے فعال ممبران نہیں رہے اس لیے وہ شاہی خطابات کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ بکنگھم پیلیس نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس شاہی جوڑے کی سکیورٹی کے معاملات آئندہ کس نوعیت کے ہوں گے۔ بکنگھم پیلیس اور ملکہ برطانیہ کے یہ بیانات اس بات کا اظہار ہیں کہ اس حوالے سے ہونے والی گفت و شنید مکمل ہو چکی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز پر شاہی جوڑے نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ معاشی خودمختاری حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی بقیہ زندگی برطانیہ اور شمالی امریکہ میں گزارنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں وہ اپنا ’نیا پراگریسیو کردار‘ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ برس شاہی جوڑے نے ان مشکلات کا تذکرہ کیا تھا جو شاہی خاندان کا رکن ہونے کے باعث میڈیا کی بہت زیادہ توجہ سے انہیں پیش آرہی تھیں۔ ڈیوک آف سسیکس نے اس اندیشے میں اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ انہی طاقتور قوتوں کا شکار ہو جائیں گی جن کی وجہ سے ان کی والدہ کی موت واقع ہوئی تھی۔