صدر ٹرمپ پر لگائے گئے الزامات امریکی عوام کے خلاف خطرناک حملہ ہیں: صدارتی وکلا کا مؤقف

  • اتوار 19 / جنوری / 2020
  • 4510

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں ان کا دفاع کرنے والی وکلا کی ٹیم نے اس مقدمے پر اپنا پہلا ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ  کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو امریکی عوام کے خلاف ایک خطرناک حملہ قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی جانب سے لکھے گئے چھ صفحات پر مشتمل خط میں کہا گیا کہ مواخذے کے آرٹیکلز کوئی بھی جرم عائد کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں دخل انداز ہونے کی شرمناک کوشش ہے۔ صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کا باضابطہ آغاز 21 جنوری سے ہو گا۔

صدر ٹرمپ امریکہ کی تاریخ کے تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور ایوانِ نمائندگان کے کام میں مداخلت کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ گزشتہ ماہ ایوانِ نمائندگان، نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری دے دی تھی۔ اب ریپبلکن پارٹی کی اکثریت والی سینیٹ اس پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے چھ صفحات پر مشتمل  خط میں صدر کے دفاع میں قانونی نکات بتائے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے جمع کروائے گئے مواخذے کے آرٹیکلز امریکی عوام کے آزادانہ طور پر اپنے صدر کے انتخاب کے حق پر ایک خطرناک حملہ ہے۔ یہ 2016 کے صدارتی انتخابات کو تہہ و بالا کرنے اور 2020 کے صدارتی انتخابات  میں دخل اندازی کی ایک غیر قانونی اور شرمناک کوشش ہے۔

آئندہ ہفتے سینیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں ان کا دفاع سابق صدر بل کلنٹن کے مواخذے کے دوران ان سے تفتیش کرنے والے وکلا کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا دفاع کرنے والے وکلا میں کین سٹار اور رابرٹ رے شامل ہیں جنہوں نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے مواخذے کے مقدمے میں ان سے تفتیش کی تھی۔ وکلا کی اس ٹیم میں ایلن درشووتز بھی شامل ہیں جو ماضی میں فٹبال کھلاڑی او جے سمپسنز کی وکیل بھی رہ چکی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے وکیل پیٹ سپولون اور ٹرمپ کے ذاتی وکیل جے سیکیولو وکلا کی اس ٹیم کی قیادت کریں گے۔

کین سٹار امریکی محکمہ انصاف کے وہ وکیل ہیں جنہوں نے وائٹ واٹر سکینڈل کی تفتیش کی تھی۔ 1980 کی دہائی میں اس سکینڈل کا مرکز دراصل بل اور ہلری کلنٹن کی جانب سے ارکنسز میں کی جانے والی زمین کی خرید و فروخت تھی۔  تاہم اس انکوائری سے کلنٹن کے وائٹ ہاؤس انٹرن مونیکا لیونسکی کے ساتھ تعلقات  کے شواہد سامنے آئے تھے۔