پاکستان میں آٹے کا شدید بحران، قیمت 70 روپے کلو تک پہنچ گئی

  • اتوار 19 / جنوری / 2020
  • 4430

ملک بھر میں قیمتیں بڑھنے کے بعد ایک مرتبہ پھر آٹے کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ حکومت اور اسٹیک ہولڈرز ذمہ داری لینے اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بجائے بحران کا قصور وار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں۔

کئی ماہ سے جاری بحران اب شدت اختیار کر گیا ہے۔ چند دن قبل ہی وزیر اعظم عمران خان نے صوبائی حکام کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ مہنگی اشیائے خوردونوش کا تدارک کیا جائے اور عوام کو سستی اشیا کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے  ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی تھی۔

خیبرپختونخوا کے نان بائی پہلے ہی پیر سے حکومت کے خلاف ہڑتال پر جانے کا اعلان کر چکے ہیں۔  پنجاب میں روٹی بنانتے والوں کی ایسوسی ایشن نے حکومت کو پانچ دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پرانے نرخوں پر آٹا فراہم کیا جائے یا پھر انہیں نان اور روٹی کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دی جائے۔

چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آٹے کا شدید بحران پیدا ہونے کے بعد یہ معاملہ بھی سیاست کی نذر ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف کی وفاقی اور پنجاب و خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتیں، اس بحران کا ذمہ دار گندم کی کمی کے سبب سندھ  حکومت کو قرار دے رہی ہیں۔

نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری ہاشم پوپلزئی نے بتایا کہ ٹراسپورٹرز کی حالیہ ہڑتال سے ملک میں گندم کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔  آٹے کے بحران کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ وقتی بحران چند دن میں ختم ہو جائے گا۔ سندھ میں 20 مارچ اور پنجاب میں 15 اپریل سے گندم کی نئی فصل آنے کے بعد صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔

ہاشم پوپلزئی نے الزام عائد کیا کہ حکومت سندھ سے کہا گیا تھا کہ وہ  ایک کروڑ 40 لاکھ ٹن گندم خرید کر رکھ لیں لیکن صوبائی حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ ملک کی ماہانہ گندم کی ضرورت 22 لاکھ ٹن ہے اور حکومت کے پاس پہلے ہی 42 لاکھ ٹن گندم اسٹاک میں موجود ہے۔

ہفتے کو کراچی میں  تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے دعویٰ کیا تھا کہ آٹے کا بحران جلد حل ہو جائے گا کیونکہ حکومت نے ڈیوٹی فری گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دو ماہ پہلے بحران کے جنم لیتے ہی 4 لاکھ ٹن گندم پاسکو کو دے دی تھی۔ پاسکو کے پاس اب بھی 3لاکھ ٹن گندم ذخیرہ ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کراچی اور حیدرآباد کو نیشنل لاجسٹک سیل کے ذریعے 10ہزار ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے حکومت سندھ کو بھی تجویز دی کہ وہ پاسکو سے گندم اٹھا لیں۔

متحدہ نان بائی ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان کی راولپنڈی کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ جہانگیر ترین اور دیگر حکومتی نمائندوں سے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں لیکن سب بے نتیجہ رہیں۔ راولپنڈی کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انور ظہیر جپا نے کہا کہ ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ حکومت قیمتیں نہیں بڑھائے گی۔ نان بائی گندم کی کمی کی شکایت کر رہے ہیں اور ہم انہیں براہ راست ملوں سے آٹے کی فراہمی کی پیشکش کی ہے لیکن وہ ہمیں اپنے تندور مالکان کی فہرست ہی فراہم نہیں کر رہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ راولپنڈی میں آٹے کی کوئی کمی نہیں۔ گزشتہ ماہ ہم نے حکومتی نرخوں پر آٹے کے 22 ہزار بیگز مرکزی منڈی کے طے شدہ مقامات پر فراہم کیے تھے لیکن انہوں نے صرف 4 ہزار بیگز فروخت کیے۔

گندم کی قیمت میں اضافے پر مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے لندن سے اپنے بیان میں کہا ہےکہ حکومت کی نااہلی کے سبب بحران نے جنم لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے گندم برآمد کرنے والے ملک کو گندم درآمد کرنے والا ملک بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے 40ہزار میٹرک ٹن گندم افغانستان بھیجی جس کے نتیجے میں بحران نے جنم لیا۔

لاہور میں شہری 70 روپے فی کلو آٹا خریدنے پر مجبور ہیں اور کسانوں نے بحران کا ذمے دار مل مالکان اور حکومت پنجاب کو قرار دیا ہے۔ پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد کھوکھر نے کہا کہ یہ سراسر حکومتی نااہلی ہے جس کے سبب طورخم کے راستے افغانستان گندم اسمگل کرنے والوں سے نمٹنے میں ناکام رہی ۔

انہوں نے کہا کہ یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب حکومت نے 1300روپے کی قیمت پر کسانوں سے زیادہ مقدار میں گندم نہیں خریدی۔ پیداواری لاگت بڑھنے کے باوجود اس قیمت میں گزشتہ کئی سالوں سے اضافہ نہیں کیا گیا۔

پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن کے عہدیدار عاصم رضا کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ہم طے شدہ قیمت پر آٹا فروخت کر رہے ہیں۔ محکمہ خوراک ہمیں روزانہ کی بنیاد پر 25ہزار ٹن گندم فروخت کر رہا ہے اور یہ مسئلہ ہمارا نہیں بلکہ چکیوں کا ہے۔ چکی مالکان نے 40کلو گندم کے تھیلے کی قیمت 2ہزار 150روپے تک پہنچنے کے سبب آٹا 70روپے فی کلو سے کم پر فروخت کرنے سے انکار کردیا ہے۔

آٹا چکی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہم 40کلو گندم کا تھیلا 2ہزار 150روپے میں خرید رہے ہیں، ہم اسے 70روپے فی کلو سے کم میں کیسے فروخر کر سکتے ہیں۔ ہمیں 8روپے فی کلو پسائی اور صفائی پر 2 روپے فی کلو لاگت آتی ہے۔