بھارتی اشتعال انگیزی جاری رہی تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا: وزیراعظم

  • اتوار 19 / جنوری / 2020
  • 4200

وزیر اعظم عمران خان نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے مستقل اشتعال انگیزی پر عالمی برادری کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا اگر بھارت نے حملوں اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ نہ روکا تو پاکستان کے لیے خاموش رہنا مشکل ہو جائے گا۔

وزیر اعظم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایل او سی پر اس پار نہتے شہریوں پر بھارتی افواج کے شدت پکڑتے اور معمول بنتے حملوں کے پیش نظر لازم ہے سلامتی کونسل مبصر مشن کا فوری طور سے مقبوضہ کشمیر واپسی کا مطالبہ کیا جائے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر بھارتی حملہ کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہندوستان کی جانب سے ایک خودساختہ اور جعلی حملے کا سخت اندیشہ ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے عالمی برداری کو بھی خبردار کیا کہ اگر بھارتی حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو پاکستان کے لیے خاموش رہنا مشکل ہو جائے گا۔ عمران خان نے کہا کہ اگر بھارت ایل او سی پار عسکری حملوں میں نہتے شہریوں کے بہیمانہ قتل عام کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو پاکستان کے لیے سرحد پر خاموش تماشائی بنے رہنا مشکل ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے کی گئی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون کے زخمی ہونے کے واقعے پر گزشتہ روز اسلام آباد میں تعینات بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز ایل او سی پر مسلسل معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور بھارت کی اشتعال انگیزی خطے کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

بھارت ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں کشیدگی میں اضافہ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورت حال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا ہے۔ وزارت خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرے اور جان بوجھ کر خلاف ورزی کے ان واقعات کی تفتیش کرے۔

اس سے قبل 12 جنوری کو آزاد جموں و کشمیر کے ضلع کوٹلی میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلااشتعال شیلنگ سے 24 سالہ شہری جاں بحق ہوگیا تھا۔

گزشتہ سال 26 دسمبر کو بھی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے 2 جوان شہید ہوگئے تھے جبکہ پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی میں 3 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔