کیا سیاسی کلچر کی تبدیلی ممکن ہے؟
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 19 / جنوری / 2020
- 7450
پاکستانی سیاست کا ایک بڑا مسئلہ سیاسی فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی محازآرائی، سیاسی تقسیم اور ایک دوسرے کے سیاسی وجود اور سیاسی عمل یا سیاسی حیثیت کو قبول نہ کرنا ہے۔
سیاست میں تنقید ایک فطری امرہے اور سیاسی فریقین اپنی داخلی سیاست سمیت سیاسی مخالفین کی مختلف پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا تے اور اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔ لیکن سیاست میں تنقید اور تضحیک کے درمیان بنیادی نوعیت کا فرق ہے اور اس فرق کو قائم کرکے ہی ہم بہتر، مثبت اور قابل قبول سیاسی کلچر کو تقویت دے سکتے ہیں۔ سیاست میں مخالفت کا مقصد دشمنی، تعصب، نفرت، بغض یا تشدد پر مبنی رجحانات قائم کرنا نہیں ہوتا۔ جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہم معاشرے کی مثبت تشکیل نو کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہماری سیاست کا طرز فکر روائتی فکر سے مختلف ہونا چاہیے۔
گالم گلوچ، تشدد، کردار کشی، جنسی خوفو ہراس، نازیبا لفظوں کیاادائیگی، جھوٹ پر مبنی الزامات، مکالمہ کی بجائے باتکو طاقت سے مسلط کرنے کے عمل نے ہماری سیاسی روایات میں بہت سے ایسے سوالات پیدا کردیے ہیں جو منفی طور پر سیاسی عمل میں غالب ہوچکے ہیں۔ حال ہی میں میں ایک ٹی وی پروگرام میں ایک وفاقی وزیر کا فوجی بوٹ لے کر جانا اور اس کو بنیاد بنا کر سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا اور قومی اداروں کی تضحیک نے ہماری سیاست کا دیوالیہ پن پیش کیا ہے۔ ایک وفاقی وزیر کا یہ انداز لمحہ فکریہ ہے۔ اس پر وزیر اعظم کا محض اظہار برہمی اور اسے چھوٹی بات سمجھنا، او ر وفاقی وزیر کی جوابدہی نہ ہونا ہماری جمہوری سیاست کی کمزوری ہے۔
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں روزانہ کی بنیادوں پرہمیں ایسے کئی واقعات میڈیا ٹاک شوز، سیاسی مجلسوں، سیاسی جلسوں یا سیاسی بیٹھکوں میں سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو بالخصوص بچوں او ربچیوں کی نفسیات پر بہت برے طور سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کا عملی نتیجہ سیاست او رجمہوریت کے بارے میں لوگوں کی لاتعلقی یا ناپسندیدگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اسی طرح یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ہم سیاسی میدان میں عورتوں یا سیاست دانوں کے اہل خانہ کو بھی سیاسی مخالفت کا حصہ بنا کر، ان کی بھی کردار کشی کرتے ہیں۔یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا سیاسی کلچر برے انداز میں منفی عمل کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ میڈیا ریٹنگ کی اس دوڑ میں میڈیا بھی ایسی خبروں کی تلاش میں ہوتا ہے جو مصالحہ دار بھی ہو او رلوگوں میں ہیجانی کیفیت بھی پیدا کرے۔بدقسمتی سے اہل سیاست خود بھی میڈیا کے ایجنڈے کا حصہ بن کر سیاست کو خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کلچر کی وجوہات کیا ہیں۔اول سیاسی جماعتوں کا داخلی نظام اس حد تک کمزور ہے کہ ایسے لوگ جو سیاست میں غیر مہذہب انداز یا کسی کے لیے تضحیک کا پہلو پیدا کرتے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی یا ان کے لیے کوئی جوابدہی کا نظام موجود نہیں ہے۔ دوئم سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی سمجھتی ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو سیاسی مخالفین کی کردار کشی یا تضحیک کریں تاکہ وہ ووٹروں کو جذباتی سیاست میں مشغول رکھ سکیں او را س کے نتیجے میں ان کی مفاداتی عمل یا سیاست کو تقویت مل سکے۔سوئم سیاست او رمیڈیا میں اب ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو سیاسی مخالفین کے بارے میں وہ سب کچھ کرسکیں جو سیاست او رمیڈیا کی ضرورت ہے۔چہارم سیاست اور اخلاقیات کے درمیان جو خلیج پیدا ہورہی ہے اس میں سیاست میں اخلاقیات ختم ہورہی ہیں۔پنجم جب ایشوز کی بنیاد پر سیاست کمزور ہوگی تو اس کا عملی نتیجہ نان ایشوز یا غیر سنجیدہ یا تضحیک پر مبنی سیاسی کلچر کے طور پرسامنے آئے گا۔
ایسی بات نہیں کہ ہماری سیاست، سیاسی جماعتوں یا اہل دانش میں سنجیدہ طرز فکر اور اخلاقی روایات سے جڑے افراد کی کمی ہے یا پورا سیاسی نظام بانجھ پن کا شکار ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اچھی تربیت والے اہل سیاست کو موجودہ فرسودہ او رغیر مہذب سیاست میں پزیرائی نہیں ملتی۔ میڈیا کو بھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو سنجیدگی کے مقابلے میں ریٹنگ کی دوڑ میں ان کی مد دکرسکیں۔ لیکن سارا الزام میڈیا پر ڈالنا بھی درست نہیں۔کیونکہ بڑی ذمہ داری تو اہل سیاست کی ہے کہ وہ اپنے عمل سے عام آدمی اور سیاسی کارکنوں میں ایک رول ماڈل کے طو رپر خود کو او راپنی جماعت کو پیش کرسکیں۔
سب سے بڑی ذمہ داری سیاسی قیادت کی ہوتی ہے۔ کیونکہ جب تک وہ افراد کے درمیان نظم و ضبط، اخلاقی سیاسی کلچراو ر سیاسی نظریات سے ہٹ کر باہمی احترام کا رشتہ قائم کرنے پر خود کو اور اپنی جماعت کے لوگوں پر دباؤ نہیں ڈالیں گے تو مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔ بعض اوقات اس منفی انداز کو قیادت کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔ایک زمانے میں کارکنوں کی سیاسی تربیت کا انتظام جماعتیں کرتی تھیں۔ اب یہ عمل سیاسی جماعتوں میں جمود کا شکار ہوگیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں اب حزب اختلاف کی سیاست کے ساتھ ساتھ حزب اقتدار کی سیاست میں بھی لعن طعن او رکردار کشی پر مبنی سیاست کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہیں۔
ہماری سیاست میں پرتشدد رجحانات، انتہا پسندی اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کا کلچر عام ہورہا ہے۔ اس کی وجہ بھی اہل سیاست کی کمزوری ہے۔ہمیں اس وقت اپنے سیاسی نظا م، سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جب تک سیاست کا داخلی کلچر مثبت انداز میں مضبوط نہیں ہوگا تو خارجی محاذ پر بھی ہماری سیاسی تصویر یوں ہی بدنمائی کا پہلو پیش کرتی رہے گی۔اگر ہم نے واقعی ملک میں سیاست او رجمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو یہ عمل سیاست میں اخلاقی پہلو کے بغیر ممکن نہیں او ریہ ہی ہماری جدوجہد کا حصہ بھی ہونا چاہیے۔اس میں ایک بڑا کردار اہل دانش اور رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے افراد و اداروں کا بنتا ہے۔ جب تک وہ حکومت اور حزب اقتدار ڈباؤ پر نہیں ڈالیں گے تو کچھ تبدیل نہیں ہوسکے گا۔ اسی طرح میڈیا کی سطح پر بھی ایسے لوگ جو ریٹنگ کے لئے منفی کھیل پیش کررہے ہیں ان کو بھی جوابدہ بنانا ہوگا۔
بڑا کردار ہمارے تعلیمی نظام او ر نصاب کا بھی ہے۔ کیونکہ یہ جو کچھ ہم سیاست میں دیکھ رہے ہیں اس میں بڑا فریق پڑھا لکھا طبقہ ہی ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری تعلیم میں تربیت کا عمل بہت پیچھے رہ گیا ہے او را س کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نئی نسل کے لوگ بھی سوشل میڈیا پر اسی روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں جو اہل سیاست نے اختیار کیا ہوا ہے۔اہل سیاست میں بھی ایسے لوگ جو موجودہ صورتحال میں اس منفی سیاست سے باغی ہیں ان کو بھی خود اپنے آپ کو منظم کرنا ہوگا او رمشترکہ طور پر اپنی اپنی جماعتوں اور قیادتوں کے سامنے یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ ہمیں ایسے لوگوں کے خلاف عملی اقدام لینے ہوں گے جو سیاسی بوجھ بن گئے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان حکومت میں ہوتے ہوئے اس کام کا آغاز اپنے اندر سے کریں او رفیصل واڈا سمیت دیگر لوگوں کو جو ان کی حکومت کی نیک نامی کی بجائے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، کے خلاف کاروائی کرکے اچھی مثال قائم کریں۔ یہ مسئلہ محض تحریک انصاف کا ہی نہیں بلکہ ہمیں دیگر بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعتوں میں بھی یہ ہی منفی طرز کی سیاست کی جھکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کاش ہماری قیادت اور سیاسی جماعتیں مل کر ایک ایسا کوڈ آف کنڈکٹ تیار کریں جو سب کے لیے قابل قبول بھی۔ یہی سیاست او رجمہوریت کے مفاد میں ہوگا۔ دوسری صورت میں پہلے سے کمزور سیاسی اور جمہوری مقدمہ عام لوگوں میں اور زیادہ منفی تاثر پیدا کرکے سیاست او رجمہوریت کو کمزور کرنے کا سبب بنے گا۔