آٹے کا بحران ختم کرنے کےلئے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی
- سوموار 20 / جنوری / 2020
- 6660
ملک میں آٹے کے بحران اور قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بغیر ریگولیٹری ڈیوٹی کے 3 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں 31 مارچ تک گندم کی درآمد کی اجازت دی گئی۔ پنجاب حکومت اور پاکستان ایگری کلچرل اسٹوریج اور سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملک بھر میں جاری قلت کو ختم کرنے کے لیے ذخیرہ کی گئی گندم کو جاری کریں۔ وزارت خزانہ کے مطابق پنجاب اور پاسکو کے پاس تقریباً 41 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔
اس دوران ملک میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔ مختلف صوبوں میں کہیں آٹا دستیاب نہیں اور کہیں اس کی قیمت عوام کی قوت خرید سے باہر ہے اور رپورٹس کے مطابق 70 روپے کلو تک آٹا فروخت کیا جارہا۔ قبل ازیں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی خوراک اور ریسرچ مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ منگل تک گندم کا بحران ختم ہوجائے گا اور قیمتیں معمول پر آجائیں گی۔
وفاقی وزیر نے پنجاب حکومت کی جانب سے بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی اور کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال کو سندھ اور خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کی اہم وجہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں مطلوبہ ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی، منافع کمانے یا مصنوعی بحران پیدا کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایک جانب حکومت نے بحران ختم ہونے کے دعوے کیے ہیں لیکن اس معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزامات عائد کررہی ہیں۔ گزشتہ روز جہاں پی ٹی آئی کی جانب سے سندھ میں آٹے کے بحران کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو قرار دیا گیا تو سندھ حکومت نے وزیراعظم کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے الزام لگایا ہے کہ گندم کی قلت کے باوجود اس جنس کو برآمد کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔