ایشیا کے تین سب سے قابل اعتبار ممالک
- تحریر منور علی شاہد
- سوموار 20 / جنوری / 2020
- 9000
حال ہی میں عالمی ادارہ مینلے اینڈ پارٹنرز نے دنیا کے طاقت ورترین پاسپورٹوں کی 107ممالک پر مشتمل فہرست جاری کی ہے۔ نئی فہرست انتہائی دلچسپ ہے جو کچھ ممالک کے دانشوروں اور سیاست دانوں کو دعوت فکر دیتی ہے۔
ان میں اسلامی ممالک خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک کے معیشت دانوں، امن پسندوں اور انسانی مساوات و ترقی پر کامل یقین رکھنے والے طبقوں کے لئے باعث اطمینان ہے کہ وہ آج سرخرو ہوئے ہیں۔ پاکستان کے لئے سوچنے کی بات ہے اس کی آزادی کے بعد آنے والے ممالک کیسے اعتبار کے اس عالمی مقام تک پہنچ گئے؟ وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے ان تینوں ایشیائی ممالک کو جدید اور ترقی یافتہ ممالک پر برتری دلائی؟ ایشیا میں پہلی تین پوزیشن لینے والے ممالک پاکستانی کی آزادی کے دوسال بعد از سر نو ملکی استحکام کی جدوجہد میں شامل ہوئے تھے اور آج دنیا میں عزت و احترام سے دیکھے جاتے ہیں۔
فکر اورغور کرنے سے کچھ اہم پہلو بھی سامنے آتے ہیں ان میں ایک امر یہ ہے کہ طاقتور ترین پاسپورٹ رکھنے والے ممالک میں ریاست کو ریاست ہی کے اصولوں پر چلایا گیا ہے۔ مذہب اور سیاست سے ریاستی امور کا دور دور تک کہیں تعلق نہیں۔ وہ سب غیر اسلامی ہیں اور خاموشی سے ملکی ترقی، انسانی فلاح اور تعلیم و تحقیق کے میدانوں میں نوجوان نسل کو مصروف کر چکے ہیں ان کی اول و آخر ترجیح ملک و قوم کی ترقی اور عوام کی فلاح و خوشحالی ہے۔ نفرت، تعصب اور امتیاز کو ان ممالک نے اپنی نوجوان نسل کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیا۔ انسانی مساوات، عدل،دیانتداری اور قانون کی بالادستی ان کی زندگی اور ریاست کے کے بنیادی اصول ہیں جن پر وہ گامزن ہیں۔
امریکہ جیسے ملک کو پیچھے چھوڑ دینا کوئی معمولی بات نہیں، ایک بڑی کامیابی ہے۔ دنیا کے طاقتورترین پاسپورٹس میں پہلی تین پوزیشنیں لینے والے ممالک کا تعلق ایشیا سے ہے تاہم تیسری پوزیشن میں جرمنی نے شمالی کوریا کے ساتھ شئیر کیا ہے پاکستان کا اس فہرست میں نمبر104ہے۔
آج دنیا کا طاقتورترین پاسپورٹ جس ملک کا ہے وہ1945میں دو ایٹمی حملوں کا نشانہ بنا تھا،جی ہاں جاپان کا پاسپورٹ آج دنیا کا طاقتورین پاسپورٹ بن چکا ہے اور اس ملک کے شہری191ممالک میں بغیر ویزاکے سفر کرسکتا ہے یا ائیرپورٹ پر ہی ویزاملے گا، دوسری طرف جاپان پر ایٹمی حملے کرنے والا ملک امریکہ کااٹھواں نمبر ہے اور اس کے شہری183ممالک کا آزادانہ سفر کرسکتے ہیں۔جنگ عظیم دوم کے بعد مئی1947میں جاپان کے موجودہ آئین کو لکھا گیا پھر اس کا نفاذ ہوا تھا۔اس آئین نے مطلق العنان بادشاہت کو لبرل جمہوریت میں تبدیل کیا، اسی آئین کی دستور 9کے تحت جاپان نے نہ صرف جنگ بندی کا اعلان کیا بلکہ ازروئے قانون بادشاہت کو جمہوریت کے ساتھ رہنے کا اعلان کیا گیا۔ جاپان کے آئین میں گزشتہ ستر سالوں سے کوئی ایک ترمیم بھی نہیں کی گئی ہے جس سے وہاں کے باشندوں کی جمہوریت پسندی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
طاقتور ترین پاسپورٹس میں دوسرا نمبرسنگا پور ہے،سنگاپور پاسپورٹ ہولڈر باشندہ 189ممالک میں بغیر ویزاکے ٹریول کرسکتا ہے یا اس کو ائیرپورٹ پر ہی ویزا ملے گا،سنگار پور1965میں ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا تھا۔ستر کی دہائی میں جدت کاری کی مہم شروع ہوئی، صنعت کو فروغ دیا گیا اور تعلیم پر غیرمعمولی سرمایہ کاری کی گئی۔1990تک سنگاپور دنیا کا سب سے زیادہ پھلتا پھولتا ملک بن گیا، معیشت آزاد اور ترقی یافتہ ہوگئی اور جاپان کے بعد ایشیا کا سب سے بہت ملکی پیداوار فی کس والا ملک بن گیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال سنگا پور کا پاسپورٹ ایک نمبر پر تھا۔
ایشیائی ممالک میں جس پاسپورٹ نے تیسرے طاقتورترین ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے وہ جنوبی کوریا ہے۔مئی1948 کو جنوبی کوریا کو جمہوریہ قرار دیا گیا،1950 میں شمالی کوریا نے جنوبہ کوریا پر حملہ کردیا اور جنگ کوریا شروع ہوگئی، یہ جنگ تین سال تک جاری رہی اس میں تین ملین فوجی اور سویلین ہلاک ہوئے۔ جنوبی کوریا قدرتی وسائل سے محروم سمندر کے بیچ ایک جزیرہ نما ملک ہے تین اطراف سمندر اور ایک طرف شمالی کوریا ہے، یہ سرزمین پہاڑوں، پتھروں سے محروم ملک جہاں قابل کاشت رقبہ انتہائی معمولی ہے لیکن ملکی قیادت انتہائی مخلص، کرپشن سے پاک، وقت کی پابندی کرنے والی ہے۔ محض اسی دیانتدار قیادت کی بدولت اسی جنوبی کوریا کے پاسپورٹ نے امریکہ، کنیڈا برطانیہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور جرمنی کے ہم پلہ ہو گیا ہے۔ اس کے شہری اب189 ممالک کا سفر بغیر ویزاکے فخر کے ساتھ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، یہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے۔
دیگر پانچ پوزیشنوں کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ فن لینڈ اور اٹلی نے چوتھی پوزیشن حاصل کی ہے، لکسمبرگ اور ڈنمارک کی پانچویں پوزیشن ہے۔ پاکستان کا نمبر104ہے اورصرف شام، عراق اور افغانستان سے پاکستان بہتر پوزیشن میں ہے اور اس میں گزشتہ سال کی نسبت کچھ بہتری آئی ہے، سب سے آخریعنی107نمبر افغانستان کا ہے۔یورپین یونین ممالک کے اندر پاسپورٹ پوزیشن میں جرمنی کا پہلا نمبر ہے جب کہ فن لینڈ اور اٹلی کی مشترکہ طور پر دوسری پوزیشن ہے۔ دنیا کے پہلے بیس طاقتور ترین پاسپورٹس میں پہلی تین چھوڑ کر باقی یورپی یونین ممالک حاصل کرچکے ہیں۔
مسلم اکثریت والے ممالک کی تعداد57ہے،گزشتہ سال متحدہ عرب امارات نے پہلے عرب ملک کی حیثیت سے بہترین پوزیشن حاصل کی تھی لیکن اس نئی فہرست میں ایک بھی اسلامی ملک شامل نہیں ہے۔پاکستان میں طاقت کے ایوانوں کو اب پاکستانی عوام پر رحم کرنا ہوگا اور گھر میں پالے ہوئے مذہبی جنونیوں، درسگاہوں اور گروہوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔