چیف الیکشن کمشنر کیلئے سکندر سلطان راجا کے نام پر اتفاق
- منگل 21 / جنوری / 2020
- 6270
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ اور اراکین کے تقرر کے معاملے پر طویل ڈیڈلاک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجا کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے۔
اس سلسلے میں قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی کی چیئرپرسن شیریں مزاری نے بتایا ہےکہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سکندر سلطان راجا نئے چیف الیکشن کمشنر ہوں گے۔ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ آج ہماری کمیٹی کا 13واں اجلاس تھا اور آج ہم نے اتفاق رائے سے تینوں خالی نشستوں پر تعیناتی کے لیے ناموں پر اتفاق کرلیا ہے۔
سندھ سے نثار درانی اور بلوچستان سے شاہ محمد جتوئی رکن الیکشن کمیشن ہوں گے جبکہ یہ تینوں نام اتفاق رائے سے طے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کردیا جائے گا۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ پارلیمان نے فیصلہ کیا اور ہم نے کسی اور ادارے کو ذمہ داری نہیں سونپی کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کے فیصلے پارلیمان کے اندر ہی ہونے چاہیے۔ خیال رہے کہ ان ناموں پر اتفاق رائے اس ترمیمی فہرست کے ایک روز بعد سامنے آیا جو اپوزیشن قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے حکومت کو بھیجی تھی۔
اپوزیشن کی 3 ناموں کی فہرست میں واحد تبدیلی سابق سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کی جگہ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کو شامل کرنا تھا۔ دیگر 2 نام تبدیل نہیں کیے گئے تھے، ان میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بھائی ناصر محمود کھوسہ اور سابق وفاقی سیکریٹری اخلاق احمد تارڑ شامل تھے۔
اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ ای سی پی اراکین کے تقرر سے متعلق اپنے سابق خطوط میں تذکرہ کیے گئے سپریم کورٹ کے پابند فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھیں۔ دوسری جانب اس معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے 3 نام تجویز کیے تھے، جن میں جمیل احمد، فضل عباس مکین اور سکندر سلطان راجا کے نام تھے اور یہ تینوں ریٹائرڈ بیوروکریٹس ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کے بعد کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا تھا کہ ہم اتفاق رائے کے قریب پہنچ گئے ہیں. انہوں نے کہا تھا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ سابق سیکریٹری ریلوے سکندر سلطان راجا کو الیکشن باڈی کی اعلیٰ نشست کے لیے مقرر کیا جائے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے اراکین جنوری 2019 میں ریٹائر ہوئے تھے اور آئین کے مطابق ان عہدوں پر 45 دن میں اراکین کا تقرر ہونا تھا لیکن اپوزیشن اور حکومت کے اختلافات کے باعث یہ نہ ہوسکا، اسی طرح چیف الیکشن کمشنر کی مدت 5 دسمبر 2019 کو ختم ہوگئی تھی۔
سکندر سلطان راجا کچھ ماہ قبل ہی سیکریٹری ریلوے کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ وہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے پیٹرولیم سیکریٹری اور چیف سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ ڈائریکٹر جنرل (پاسپورٹس) بھی رہے اس وقت چوہدری نثار علی خان وزیر داخلہ تھے۔
انہوں نے صوبائی سیکریٹری آف کمیونکیشن اینڈ ورکس، سروسز اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے فرائض بھی انجام دیے۔ اس کے علاوہ وہ مختصر مدت کے لیے پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری تعینات ہونے سے قبل بلدیاتی حکومت کے سیکریٹری بھی رہے۔ سکندر سلطان راجا کے والد آرمی افسر تھے جبکہ ان کی اہلیہ رباب سکندر پاکستان کسٹمز میں 21 ویں گریڈ کی افسر ہیں۔