کرنل (ر) انعام الرحیم کی مشروط رہائی کی یقین دہانی

  • بدھ 22 / جنوری / 2020
  • 4630

وزارتِ دفاع نے پاکستان کی سپریم کورٹ کو یقہن دلایا ہے کہ  لاپتا افراد کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو مشروط طور پر رہا کیا جاسکتا۔

کرنل (ر) انعام الرحیم کی رہائی کے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر بدھ کو سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار ملزم بیمار ہے اور اسے بار بار اسپتال لے جانا پڑتا ہے۔ تاہم وزارتِ دفاع ملزم کو رہا کرنے پر رضا مند ہے لیکن کچھ شرائط ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزم کو رہائی کے لیے پاسپورٹ جمع کرانا اور لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ دینا ہوگا۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے راولپنڈی اور اسلام آباد سے باہر جانے پر پابندی ہوگی۔ کرنل (ر) انعام الرحیم کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ ان کے مؤکل گزشتہ ایک ماہ  آٹھ دن سے حراست میں ہیں۔ رہائی کے لیے پاسپورٹ جمع کرانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے تحقیقات میں تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ انعام الرحیم کے وکیل نے پاسپورٹ جمع کرانے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ رہائی کے خلاف حکومتی اپیل کو میرٹ پر سنا جائے گا۔ عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت پر الزام عائد کیا تھا کہ کرنل (ر) انعام عملی طور پر جاسوسی کرتے ہیں وہ اکیلے نہیں بلکہ ان کا پورا نیٹ ورک ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ اس ملک دشمن جاسوس نیٹ ورک کے ایک ساتھی کو سزائے موت دی جا چکی ہے جبکہ دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ فوج کے سابق کرنل انعام الرحیم کو 16 دسمبر کو راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے لے جایا گیا تھا۔

کرنل (ر) انعام الرحیم کے صاحبزادے حسنین انعام نے وائس اف امریکہ کو بتایا تھا کہ 16 دسمبر کی شب ساڑھے 12 بجے عسکری 14 میں واقع ان کے گھر میں سیاہ لباس میں ملبوس آٹھ سے دس مسلح افراد گھس آئے۔ یہ افراد والد کو اسلحے کے زور پر زبردستی اپنے ہمراہ گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ حسنین کے بقول ان لوگوں  نے انہیں دھمکی بھی دی کہ اگر والد کی گمشدگی کورپورٹ کیا تواس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم لاپتا افراد اور فوجی عدالتوں سے سزائیں پانے والے افراد کی وکالت کے لیے مشہور ہیں۔

انہوں نے کچھ عرصہ پہلے پاکستان نیوی کے جہازوں پر حملہ آور ملزمان کی بھی وکالت کی تھی۔ کرنل (ر) انعام الرحیم ماضی میں فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر پر حملے کے ملزمان کی وکالت بھی کرتے رہے ہیں۔ انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے بعض جج صاحبان کے خلاف کچھ ریفرنس بھی دائر کیے ہوئے ہیں جن میں جسٹس منصورعلی شاہ بھی شامل ہیں