عمران خان سے ملاقات میں ٹرمپ کا کشمیر پر ثالثی کا پھر دعویٰ
- بدھ 22 / جنوری / 2020
- 4740
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ڈیووس میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران دونوں اطراف کے وفود بھی شامل تھے۔ملاقات کے آغاز پر ٹیلی ویژن چینلز نے ان کی مختصر گفتگو اور سوالات کے جواب براہ راست نشر کیے۔ ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اچھے ہیں اور ہم پہلے کبھی پاکستان کے اتنے قریب نہیں تھے جتنے اب ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے کلمات میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے درباہ ملاقات کر کے خوشی ہوئی۔ ٹرمپ سے سوال کیا گیا آیا آئندہ ماہ وہ بھارت کے علاوہ پاکستان کا بھی دورہ کریں گے جس پر اُن کا کہنا تھا کہ دورہ طے ہو چکا ہے، ایسا کرنا اب ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین بہت ہی اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ہمارے اچھےتعلقات ہیں۔ میں یہ کہوں گا کہ اس سے قبل شاید پاکستان کے ساتھ کبھی ہمارے اتنے قریبی تعلقات نہیں رہے، جتنے آج ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم ان کے بہت ہی اچھے دوست ہیں، جن کے ساتھ ملنے کا ایک اور موقع ملا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم بہت سی باتوں پر گفتگو کریں گے، جن میں تجارت بھی شامل ہے۔ چونکہ تجارت بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ اور اب تجارت میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔ چند معاملات پر تو ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔ کشمیر پر بات کرتے رہتے ہیں اور اس پر کہ پاکستان و بھارت کے درمیان کیا ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم کچھ کر سکتے ہیں تو ہم یقینی طور پر کریں گے۔ ہم نے اس معاملے پر نظر رکھی ہوئی ہے جسے ہم بہت ہی قریب سے دیکھ رہے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بہت سے معاملات ہیں جن پر ہم بات کرنا چاہیں گے۔ اہم معاملہ افغانستان کا ہے، چونکہ امریکہ اور پاکستان کو اس بارے میں تشویش لاحق ہے۔ خوش قسمتی سے ہم ایک ہی پیج پر ہیں۔ دونوں افغانستان میں قیام امن کے خواہاں ہیں۔ جب کہ دونوں چاہتے ہیں کہ طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں پرامن عبوری دور قائم ہو۔
انہوں نے کہا کہ پھر بھارت کا معاملہ بھی ہے۔ ہم پاکستانیوں کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اور ہم ہمیشہ یہی توقع رکھتے ہیں کہ امریکہ مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا، چونکہ کوئی اور ملک ایسا نہیں کر سکتا۔