سی پیک منصوبےپاکستانی معیشت کے لئے خطرناک بوجھ ہیں: امریکا
- بدھ 22 / جنوری / 2020
- 4350
سینیئر امریکی سفیر ایلس ویلز نے سی پیک پر نظر ثانی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں بلیک لسٹڈ کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں۔ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر تنقید کی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں۔ پاکستان کا قرض چینی فنانسنگ کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل 21 نومبر 2019 کو واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں دیے گئے ریمارکس میں بھی انہوں نے یہ الزامات عائد کئے تھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری پر مبنی تعلقات بنانے پر زور کے بعد ان کا دوبارہ یہ دعویٰ اب مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا سے پاکستان کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے فہرست سے نام نکالنے میں مدد کرنے کو کہا تھا۔ سی پیک پر الزامات لگاتے ہوئے سفیر ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کو سی پیک میں کنٹریکٹس ملے ہیں۔
امریکی سفیر نے حال ہی میں قائم کی جانے والی سی پیک اتھارٹی کو مقدمات سے استثنیٰ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔ خیال رہے کہ سی پیک اتھارٹی تعاون اور منصوبوں کے لیے نئے علاقوں کی نشاندہی، سہولیات کی فراہمی، رابطہ اور جاری منصوبوں کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا نیا ادارہ ہے۔
قرضوں کے مسئلے پر ایلس ویلز نے زور دیا کہ چینی مالی امداد معاونت نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں کے لیے چین کی فنانسنگ سے پاکستان مہنگے ترین قرضے حاصل کر رہا ہے۔ خریدار ہونے کے ناطے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے کیونکہ اس سے کمزور معیشت پر بھاری بوجھ پڑے گا۔
امریکی سفیر نے ریلوے ایم ایل 1 منصوبے کی لاگت میں اضافے پر بھی بات کی۔ جو کراچی سے پشاور کو جوڑے گا۔ انہوں نے حکومت سے بڑے منصوبوں پر شفافیت دکھانے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے ایلس ویلز سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیاسی روابط اور معاشی شراکت داری سمیت وسیع دوطرفہ امور پر بات چیت ہوئی۔ ملاقات میں زور دیا گیا کہ مضبوط تجارتی و سرمایہ کاری پر مشتمل تعلقات دونوں ممالک کی قیادت کے لیے پاک امریکا طویل المدتی، وسیع البنیاد اور پائیدار شراکت داری استواری کرنے کی سوچ آگے بڑھانے میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
سیکریٹری خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافے، بھارتی سول اور فوجی حکام کی جنگی دھمکیوں اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی جارحانہ اقدامات کو واضح کیا اور جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل میں بین الاقوامی برادری کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات میں افغان امن و مصالحتی عمل کے بارے میں حالیہ پیش رفت سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سہیل محمود نے افغان امن عمل کی حمایت جاری رکھنے اور پاک افغانستان تعلقات میں مثبت پیش رفت سے متعلق پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
واضح رہے کہ ایلس ویلز دورہ بھارت اور سری لنکا کے بعد چار روزہ دورے پر دو روز قبل پاکستان پہنچی تھیں۔ گزشتہ روز انہوں نے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ سے بھی ملاقات کی تھی جس میں سیکیورٹی اور داخلی امور سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسئلے کو تسلی بخش حد تک حل کر لیا گیا ہے۔