کشمیر کی تقسیم قبول کرنے کی کوششیں
- تحریر اطہر مسعود وانی
- بدھ 22 / جنوری / 2020
- 10450
امریکہ کی جنوبی اور وسطی ایشیائی امورکی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ آف سٹیٹ ایلس ویلز انڈیا کے دورے کے بعد پاکستان کا دورے پر ہیں۔اسلام آباد میں اپنے اعزاز میں سینیٹر انور بیگ کی طرف سے دی گئی ایک دعوت میں شرکت کے موقع پر انہوں نے ان امور پر بات چیت کی جو امرییکی مفاد میں ہیں۔
امریکی عہدیدار کی گفتگو سے یہ بات سامنے آئی کہ انڈیا کی یہ کوشش ہے کہ کشمیر سے متعلق اس کے حالیہ اقدامات کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے ’بیک ڈور ڈپلومیسی‘ کے طور پر خفیہ مذاکرات’ٹریک ٹو ڈائیلاگ‘ پر رضامندی ظاہر کی جائے۔پاکستانی حلقوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر ایسی ’بیک ڈور ڈپلومیسی‘ ہوتی بھی ہے تو ایسا کسی ملک کی ثالثی میں ہونا چاہئے۔ایسا ثالث ملک امریکہ،سعودی عرب،یو اے ای ہو سکتے ہیں۔محض دونوں ملکوں کے بیک ڈور ڈائیلاگ کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔
ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکہ کا افغانستان سے فوج نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔دوسری طرف انڈیا کی کوشش بھی یہی ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات نہ کرے تاکہ امریکہ اپنی فوج افغانستان سے نہ نکال لے۔ان کی گفتگو سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ امریکہ کا اس وقت پاکستان سے متعلق سب سے بڑا مسئلہ چین کا معاملہ ہے۔امریکہ کی کوشش ہے کہ پاکستان میں ’بی آر آئی‘(بیلٹ روڈ انشیٹیو) ’سی پیک‘ منصوبے پر کام آگے نہ بڑھے۔چین کے ساتھ پاکستان کی سٹریٹیجک پارٹنر شپ امریکہ کو بالکل پسند نہیں۔امریکہ ’ایف اے ٹی ایف‘ میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے اقتصادی،معاشی طور پر دباؤ کے طورپر قائم رکھنا چاہتا ہے۔
اگر پاکستانی انتظامیہ امریکی ہدایات کے مطابق عمل کرتی ہے تو اس سے کشمیر کا مسئلہ تقسیم کے ذریعے حل کرنے کی انڈیا کی کوششوں کو بڑی مدد ملے گی اور پاکستان پر انڈیا کی بالادستی حتمی ہو جائے گی۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی طریقہ کار اور اس کے نتائج کو دیکھا جائے تو اس بات کے امکانات پائے جاتے ہیں کہ پاکستان کو کمزور سے کمزور پوزیشن کی طرف دھکیلتے ہوئے چین کے خلاف انڈیا کے کردار کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
آزاد کشمیر کے سابق صدر،دو بار وزیر اعظم رہنے والے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سنیئر نائب صدر سردار سکندر حیات نے پیر کو پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کے ساتھ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ میڈیا میں شائع ٰخبروں کے مطابق سردار سکندر حیات خان نے وزیر اعظم عمران خان کو دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر بھر پور اور موثر انداز میں اجاگر کرنے پر خراج تحسین پیش کیااور وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سردار سکندر حیات خان کو تحریک انصا ف میں شمولیت کی دعوت دی اور کہا کہ آئندہ الیکشن میں آپ کی مشاورت سے ٹکٹ دیں گے۔سردار سکندر حیات نے مشاورت کے لئے وقت مانگ لیا۔
سکندر حیات خان کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات بہت سے افراد کے لئے غیر متوقع اور ناخوشگوار ہے۔آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے قیام میں سردار سکندر حیات خان کا کلیدی کردار تھا اور اس سلسلے میں کارکنوں کا پہلا اجلاس انہی کی اسلام آباد رہائش گاہ میں منعقد ہوا تھا۔’پی ٹی آئی‘ آزاد کشمیر کے حلقوں کی طر ف سے کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی،مسلم کانفرنس اور سردار سکندر حیات کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کے فاروڈ گروپ کی ذریعے اسمبلی میں تبدیلی لائی جائے گی۔اسی حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مسلم کانفرنس کے حلقے اس ملاقات سے خوش نہیں ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے سکندر حیات خان نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف کئی بیانات دیے تھے۔تاہم یہ توقع نہیں کہ جا رہی تھی کہ سردار سکندر حیات خان عمران خان کی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے اتنا بڑا سیاسی ’یو ٹرن‘ لیں گے۔سردار سکندر حیات خان سے نسبت رکھنے والے سیاسی حلقوں میں ان کا یہ اقدام قابل تحسین نہیں سمجھا جا رہا۔بلاشبہ سردار سکندر حیات خان کی طر ف سے تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کا اقدام ایک سیاسی حربہ ہے۔
َ معمول کی صورتحال میں پاکستان کی کسی حکمران پارٹی کی حمایت ایک سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے لیکن جس طرح عمران خان کو الیکشن جتواتے ہوئے ان کی حکومت قائم کروائی گئی، اس عمل میں ملک کو ہر شعبے میں بدترین صورتحال میں دھکیلتے ہوئے ملک کے مستقبل کو غیریقینی کا شکار کر دیا گیا۔ اس تناظر میں،آزاد کشمیر میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے طریقہ کار کی حمایت کو اچھا اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور نہ ہی اس فیصلے کو عوام کی طرف سے پذیرائی مل سکتی ہے۔
تقسیم کشمیر کے حوالے سے خطرات کی یوں بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر میں پاکستانی حکومت کی طر ف سے سیاسی تبدیلی کی خواہش اور کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت تقسیم کشمیر کو مضبوط بنانے کے لئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق متنازعہ حیثیت میں تبدیلی کے اقدامات سے پہلے آزاد کشمیر میں تابعدار حکومت کے قیام کی کوششیں کررہی ہے۔اگر ایسا ہوتا تو یہ صرف پاکستان کی طرف اپنے قومی مفادات سے دستبرداری اور انڈیا کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہی نہیں ہو گا بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ پاکستانی انتظامیہ امریکی ہدایات کے مطابق چلنے کا ذہن بنا چکی ہے۔ پاکستان کو اس امریکی جال سے بچنے کی ضرورت ہے۔