اصلاحات مشکل عمل ہے جس سے گزرے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا: عمران خان
- جمعرات 23 / جنوری / 2020
- 4450
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اصلاحات ایک دردناک عمل ہے جس سے گزرے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ڈیووس میں پاکستان بریک فاسٹ میٹ کی تقریب میں کاروباری شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا احساس ہے مگر اصلاحات کے عمل سے گزرے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی اہم شخصیات ڈیووس میں موجود ہیں۔ یہاں آنے کا مقصد کاروباری شخصیات کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول سے آگاہ کرنا ہے کیونکہ یہاں ایک جگہ ایسے لوگوں سے ملاقات ہوجاتی ہے جن سے ملنے کے لیے آپ کو بہت زیادہ سفر اور اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔ ڈیوومیں میں قیام بہت مہنگا ہے اور حکومت کے پیسے اس پر خرچ کرنا نہیں چاہ رہا تھا تاہم اکرام سہگل اور محمد عمران کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے اس دورے کو اسپانسر کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیووس میں آنے والے تمام وزرا اعظم میں سب سے سستا دورہ میرا ہوگا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انسان کی اصل کامیابی برے حالات میں پر امید رہنا ہوتا ہے۔ اکثر لوگ برے حالات میں ہمت ہار دیتے ہیں۔ زندگی میں آگے جانے کے لیے آپ کو مشکل حالات میں جینے کا سلیقہ آنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ غریب اور معاشرے کے نچلے طبقے میں آگے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ میں نے اپنے ملک کے انتہائی پسماندہ علاقے میں نمل یونیورٹی بنائی۔ میانوالی کی نمل یونیورسٹی کو بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے ڈگری جاری ہوتی ہے۔
شوکت خانم میموریل ہسپتال کے قیام کے حوالے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب میری والدہ کو کینسر کی بیماری ہوئی تو معلوم ہوا پاکستان میں اس وقت ایک بھی کینسر ہسپتال نہیں تھا، والدہ کی تکلیف دیکھ کر ارادہ کیا کہ پاکستان میں کینسر ہسپتال بناؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ جب سیاست میں آیا تب بھی سب میرا مذاق اڑاتے تھے، اس وقت صرف 2 جماعتیں اقتدار میں تھیں تاہم کئی سالوں کی محنت کے بعد اس میں بھی کامیابی حاصل کی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ترقی کے لیے آپ کو پہلے بڑے خواب دیکھنے ہوتے ہیں۔ بڑا ہدف حاصل کرنے کے لیے آپ کو کشتیاں بھی جلانی پڑتی ہے، پاکستان میں ترقی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں موجودہ تحریک انصاف کی حکومت صنعتوں کی ترقی کے کے لیے کام کر رہی ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج کرپٹ عناصر کا مقابلہ کرنا ہے جو ہر روز ایک نئی افواہ پھیلاتے ہیں۔ ہماری حکومت نے کچھ کرپٹ عناصر کا محاسبہ کیا ہے اور اب وہ جیل میں ہیں۔