سی پیک کے معاملہ میں پاکستان اپنا مفاد دیکھے گا: وزیر خارجہ

  • جمعرات 23 / جنوری / 2020
  • 4030

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے ہمیں اپنا مفاد دیکھنا ہے۔ جو چیز ہمارے مفاد میں ہے ہم اس پر عمل پیرا رہیں گے۔

سی پیک سے متعلق امریکی الزامات اور چین کے ردعمل کے بعد موجودہ صورتحال کے تناظر میں جاری کیے گئے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ اپنا نقطہ نظر دنیا کے سامنے رکھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر میں حالات بگڑتے ہیں یا جنوبی ایشیا میں کوئی چپقلش جنم لیتی ہے تو خطے کی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ لہٰذا ان تمام مسائل کو اجاگر کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اجاگر کیا ہے۔ پاک چیف اقتصادی راہداری سے متعلق انہوں نے کہا کہ سی پیک سے متعلق ہمیں اپنے مفاد کو دیکھنا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں بھی سی پیک پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چین پر الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ تاہم  امریکی سینئر سفیر ایلس ویلز  نے پاکستان کے دورہ کے دوران سی پیک پر ایک بار پھر تنقید کی تھی۔ ایلس ویلز نے سی پیک پر مختلف سوالات اٹھائے تھے۔

سی پیک پر الزامات لگاتے ہوئے سفیر ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کو سی پیک میں ٹھیکے ملے ہیں۔ امریکی سفیر نے حال ہی میں قائم کی جانے والی سی پیک اتھارٹی کو مقدمات سے استثنیٰ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔

چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ایلس ویلز کے بیان پر ردعمل میں کہا تھا کہ 21 جنوری کو دورہ پاکستان پر آنے والی امریکی نائب سیکریٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے ایک مرتبہ پھر پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے منفی ردعمل دیا جو نئی بات نہیں ہے بلکہ نومبر 2019 والی تقریر کی تکرار ہے جسے پاکستان اور چین دونوں مسترد کر چکے ہیں۔