ایرانی حملے میں34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں: پینٹاگون
- ہفتہ 25 / جنوری / 2020
- 4900
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی بیس پر ایرانی حملے کے بعد 34 امریکی فوجیوں کو شدید دماغی چوٹ (ٹی بی آئی) کی تشخیص کی گئی ہے۔ ایک ترجمان کے مطابق 17 فوجیوں کی اب بھی طبی نگہداشت کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آٹھ جنوری کو ایران کی طرف سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بدلے میں کیے جانے والے حملے میں کوئی بھی امریکی زخمی نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر جوابی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کسی بھی فرد کے زخمی نہ ہونے کے پیشِ نظر کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے پینٹاگون کی جانب سے کہا گیا کہ 11 فوجیوں کو حملے کے نتیجے میں آنے والی گہری دماغی چوٹوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ جب اس ہفتے صدر ٹرمپ سے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ انہیں سر میں درد اور کچھ دیگر مسائل تھے لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بہت سنگین نہیں ہے۔
جب ان سے ممکنہ دماغی چوٹوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے جو دوسری طرح کی چوٹیں دیکھی ہیں، ان کے مقابلے میں میں انہیں زیادہ سنگین نہیں سمجھتا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عین الاسد بیس پر ایرانی میزائل حملے میں کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا تھا جبکہ زیادہ تر فوجیوں نے میزائل حملے کے دوران بنکرز میں پناہ لے لی تھی۔
جمعے کو محکمہ دفاع کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے رپورٹرز کو بتایا کہ متاثرہ فوجیوں میں سے آٹھ کو مزید علاج کے لیے امریکہ بھیجا جا چکا ہے جبکہ دیگر نو کا جرمنی میں علاج جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 16 فوجیوں کا علاج عراق اور ایک کا کویت میں کیا گیا جس کے بعد تمام 17 ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔
جوناتھن ہوفمین نے مزید کہ امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر کو حملے کے بعد اگلے چند دنوں میں فوری طور پر ان زخموں کا پتا نہیں چلا تھا۔ عراق اور افغانستان میں ڈیوٹی دینے والے سابق امریکی فوجیوں کی غیر منافع بخش تنظیم عراق اینڈ افغانستان ویٹرنز آف امریکہ نے زخموں کی حقیقی نوعیت ظاہر کرنے میں تاخیر کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔