فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج

  • ہفتہ 25 / جنوری / 2020
  • 3820

پاکستان تحریک انصاف  کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کا حصہ قرار دینے اور فارن فنڈنگ کیس واپس الیکشن کمیشن کو بھیجنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں فارن فنڈنگ کیس کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں جس میں اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کا حصہ قرار دینے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی شامل ہے۔  درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اکبر ایس بابر کا 2011 سے تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے پی ٹی آئی چھوڑنے کی ای میل کی، جو ریکارڈ پر موجود ہے۔ ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کا اختیار استعمال کرتے ہوئے متنازع حقائق پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اکبر بابر متاثرہ فریق نہیں اس لیے الیکشن کمیشن کو کیس سننے کا اختیار نہیں ہے۔ ساتھ ہی اکبر ایس بابر کی پی ٹی آئی رکنیت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر اور دیگر کی جانب سے پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کے ذرائع کی جانچ پڑتال سے متعلق کیس 2014 سے زیرِ التوا ہے۔

یہ کیس پہلے الیکشن کمیشن میں پیش کیا گیا تھا تاہم پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں  اس معاملے میں ای سی پی کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا تھا۔  فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار کا جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا۔ عدالت نے اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کا حصہ بھی قرار دیا تھا۔

اسی سال 8 مئی کو الیکشن کمیشن کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی یہ  ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے ہیں۔ مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔