آٹا بحران تو صرف ایک نمونہ ہے!

  • تحریر
  • ہفتہ 25 / جنوری / 2020
  • 5940

قسم ہا قسم کے بحرانوں کی  پہلے کیا کمی تھی جو اب اچانک آٹا بحران نمودار ہوگیا۔ اس نئی افتاد پر حکومت بھی حیران اور پریشان ہوئی، کبھی ایک وضاحت کبھی دوسری۔ اپوزیشن کے لئے موقع غنیمت  تھا، سو الزامات  کا ایک نیا بھرپور سلسلہ شروع  ہوگیا۔  گزشتہ کئی ہفتوں سے آئینی موشگافیاں سنتے سناتے  عوام اور میڈیا کے لئے بھی یہ موضوع  زیادہ دل پسند ثابت ہوا۔ 

ملک کی فوڈ سپلائی چین کیا اس قدر کچے دھاگے سے بندھی  تھی کہ یوں ایک ہی جھٹکے میں ٹوٹ گئی؟   آٹے  کی قلت اور اس کی قیمتوں میں اضافے سے  پیدا ہوئی بے چینی نے  بائیس کروڑ  آبادی  والے ملک کے لئے فوڈ سیکیورٹی کی مرکزیت اور حساسیّت کو   ہمارے سامنے  لا کھڑا کیا ہے۔ فوڈ سیکیورٹی  کو ہمارے کئی  ایک احباب نے  اکثر اسے کچھ این جی اوز اور چند تھنک ٹینکس  کے دماغ کے خلل سے تعبیر کیا۔ ان کا  خیال  یہ رہا ہے کہ ہمارا  زرعی ملک  انتہائی زرخیز تھا اور ہے۔  اکونومی کا پہیہ چاہے تھم کر چلے یا تیز مگر زراعت میں اتنا دم خم ہے کہ   ہمارے ہاں  ٌ کال ٌ نہیں پڑ سکتا،  افراط نہ سہی لیکن دانے دانے  کے محتاج ہونے کا  توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا  مگر حالیہ دنوں  ملک کے بیشتر علاقوں میں آٹے کی یکدم اور شدید قلت نے  اس  اعتماد کو شدید جھٹکا دیا۔

اب جبکہ بال کی کھال اتاری جا رہی ہے تو  علم ہو  رہا ہے کہ کئی ایک ماہرین اور تجزیہ کار کچھ عرصے سے  گندم کی قلت کے اشارے دے رہے تھے،   حکومت  کے اپنے ادارے اسٹیٹ بنک کی حالیہ سالانہ رپورٹ میں اس  حقیقت  کا اعتراف موجود تھا کہ سوائے مکئی کے  خریف اور ربیع کی تمام فصلوں کی پیداوار میں کمی  ریکارڈ کی گئی۔ گندم کی پیداوار  ہدف سے پانچ فی صد کم  ہوئی۔ مسلسل دوسرے سال گندم کی فصل میں کمی کی وجوہات میں  گنے  کی برداشت میں تاخیرکا ہونا  ہے جس کی وجہ سے گندم  کی بوائی کے لئے زمین کی بروقت دستیابی کم ہوئی۔  کھاد کی دستیابی میں کمی جس کی وجہ سے  پیداوار میں کمی ہوئی،  شدید بارشوں کا ہونا اور فصل پر بیماری کا حملہ  شامل ہیں۔

حکومت کے لئے یہ بحران  اچانک اور غیر متوقع تھا۔   شاید اسی لئے اس کے وزرا کا ردِ عمل بھی غیر متوقع رہا بلکہ بعض  صورتوں  میں مضحکہ خیز تھا۔ ایک وفاقی وزیر کا خیال تھا کہ عوام سردیوں میں معمول سے زیادہ روٹیاں کھاتے ہیں اور اس بار تو سردی نے حد ہی کردی۔  کچھ نے آٹے کے بحران  کے وجود  کا سرے سے ہی انکار کیا۔  باقیوں نے اسے منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں، فلور ملز مالکان اور ٹریڈرز کی  سازش کا شاخسانہ قرار دیا۔

 آٹے کے بحران کی شدت میں کمی آچکی مگر اس  انتظامی  بریک ڈاؤن  کی وجوہات  پر تجزیے جاری ہیں۔  کچھ کا خیال ہے کہ گندم کے اسٹاکس کم ہونے کے باوجود پچھلے سال چھ لاکھ ٹن کی برآمد کی اجازت دے کر کسی کو فائدہ پہنچایا گیا۔  کچھ کا خیال ہے کہ سمگلنگ نے  سپلائی چین میں شگاف ڈالا، کچھ نے اس میں  سندھ حکومت  کی غیر ذمہ داری ڈھونڈ نکالی کہ وہاں اس سیزن میں سرکاری خریداری  صفر  رہی،  کچھ کے خیال میں برا  ہو ٹرانسپورٹ کی بے وقت ہڑتال کا جس کی وجہ سے گندم کی بین الصوبائی ترسیل  میں خلل آیا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں بار بار سیکریٹری فوڈ تبدیل کرنے سے  صوبائی حکومتوں  کی کار ہائے گندم   پر گرفت کمزور ہوئی اور   اس دھندے کی باریکیوں  کا انہیں ادراک ہوا  نہ بروقت  الارم  بجا۔ ناقدین کا البتہ اصرار ہے کہ یا تو یہ صریحاٌ  نالائقی تھی  یا پھر  ہو نہ ہو   یہ سب  کیا دھرا  دوست نوازی کا ہے۔

آٹے کا بحران  تو تقریباً ٹل  گیا ہے لیکن  کیا ہماری زراعت کا  فی الوقت یہی ایک بحران تھا؟    یقینا نہیں، بلکہ آٹے کا یہ بحران ایک نمونہ ہے  ان کئی بحرانوں کا جو زراعت   کے شعبے میں  برسوں سے پرورش  پا رہے ہیں۔  ایک اعتبار سے یہ لمحہ غنیمت ہے جو  قوم کو چونکا گیا کہ زراعت کے شعبے میں سب ٹھیک نہیں۔ گندم کے اسٹاکس  اور اس کی سپلائی چین  میں کوتاہیاں تو درست ہو جائیں گی لیکن زراعت کے شعبے میں  جوالٹا ہو رہا ہے،  وہ  سیدھا ہونے کا نام لے رہا ہے  او رنہ ہی  وہ  سیاست اور میڈیا کے بیانئے  کی  گونج میں کسی کو سنائی دے رہا ہے۔ گذشتہ سال کے پاکستان اکنامک سروے  کے مطابق   بڑی فصلوں کی پیداوار میں  ساڑھے تین فی صد اضافے کی بجائے ساڑھے چار فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ گنے کی پیداوار میں  انیس فیصد سے زائد کمی ہوئی، کپاس  کی فصل ساڑھے  سترہ فی صد جبکہ چاول کی پیداوار ساڑھے تین فیصد کم ہوئی۔  گندم کی پیداوار میں فقط  نصف فیصد اضافہ ہوا۔   جس ملک کی آبادی میں سالانہ  اضافہ سوا دو فی صد  سے  زائد ہو، وہاں منفی پیداوار کئی نئے بحرانوں کی پرورش نہیں تو اور کیا ہے؟

یہ منفی پیداوار کوئی  اس سال  سے مخصوص نہیں ہے۔ معروف اکانومسٹ ڈاکٹر قیصر بنگالی کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ  " State of The Economy 1990-2015"  کے مطابق بڑی  فصلوں کی  پیداوار میں پچیس سالوں کے دوران  اوسطاٌ  تین فیصد سالانہ سے بھی کم کا اضافہ ہوا۔ اگر ان  دو چار سالوں  کو الگ کر دیا جائے جن میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا  تو پھر یہ اوسط گھٹ کر فقط ایک فی صد رہ جاتی ہے۔  چھوٹی فصلوں میں اس پیمانے پر اوسطاٌ سالانہ ڈیڑھ فیصد اضافہ ہوا۔  جبکہ اس دوران  دنیا  کے بیشتر ممالک میں فصلوں کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ وجوہات جانی پہچانی ہیں، کاشتکاری کے فرسودہ طریقہء کار،  زرعی اصلاحات کا نہ ہونا، نئے  بیجوں میں کوئی قابل ذکر دریافت نہیں، کھاد اور سپرے  سمیت تمام زرعی خراجات میں ہوش ربا اضافہ۔ اس پر مستزاد کہ مارکیٹنگ  کے وہی  فرسودہ  انداز  جس میں آڑھتی اور تاجر  قیمتوں کے اتار چڑھاؤ میں  خوشحال مگر زمیندار مسلسل زیر بار،  گنے میں مل مالکان  اور چاول میں ٹریڈرز  کی آہنی گرفت ہے۔ کاشتکار مقروض بھی ہے  اور بڑھتی  ہوئی پیداواری لاگت کے ہاتھوں مجبور بھی، رہی سہی کسر تیل  اور بجلی کی قیمت پوری کر دیتی ہے کہ ٹیوب ویل چلانے  بھی مہنگے اور فصل کی ترسیل بھی  مہنگی۔

زراعت  کے شعبے میں  فصلوں کا تناسب  40% جبکہ لائیو اسٹاک کا  حصہ 60%  ہے۔ ہم  ایک زرعی ملک ہونے  کے دعوے دار ہیں۔ کپاس ہماری سب سے بڑی کیش  فصل ہے۔  کپاس کی فصل مسلسل دوسرے سال تباہ کن  حد تک کم ہوئی۔ ملکی  ضرورت  ڈیڑھ کروڑ گانٹھ ہے جبکہ اس سال نوے لاکھ کی پیداوا ر متوقع ہے۔ ملکی ضروت  پوری کرنے کے لئے ساٹھ لاکھ گانٹھ درآمد کرنے پر  پونے دو ارب  ڈالرز سے زائد زرِمبادلہ  خرچ ہو جائے گا۔ اگر ملکی ضرورت  کے مطابق پیداوار ہوتی تو زرعی شعبے میں تین سو ارب روپے کے لگ بھگ اضافی رقم سرکولیشن میں آتی  اور پورے زرعی شعبے اور اکونومی  کا رنگ ڈھنگ بدل جاتا۔

ہماری اکونومی کا زراعت سے گہرا تال میل  اور انحصار ہے۔  جن سالوں میں زرعی پیداوار بہتر ہوتی ہے، برآمدات اور جی ڈی پی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔  آٹے کا بحران تو فقط ایک نمونہ ہے جبکہ زراعت  کے شعبے میں  دھیرے دھیرے پکنے والے کئی بحران  پرورش  پا رہے ہیں۔ صوبائی اور  وفاقی حکومتوں  کے لئے آٹا بحران ایک تازیانہ ہے کہ  ایک مستحکم معیشت اور حالیہ معاشی بہتری کے تسلسل کیلئے  وہ زراعت کے شعبے  میں جنم لینے والے ان بحرانوں کی خبر لیں۔ سالہا سال سے کسان بے وجہ پریشان نہیں  ہیں، ان کے کھیتوں  میں  بحرانوں کی فصلیں پک رہی ہیں۔