چین میں پایا جانے والا کرونا وائرس کئی ممالک تک منتقل

  • اتوار 26 / جنوری / 2020
  • 8080

چین میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سفری پابندیوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ ووہان میں کاروں کے داخلے پر پابندی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے شہر کی سڑکیں ویران ہو گئی ہیں۔

امریکہ اور فرانس نے شہریوں کو چین سے نکلنے کی ہدایات جاری کردی ہیں جب کہ سری لنکا بھی ایسے ہی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ کینیڈا میں بھی چین سے کرونا وائرس کی منتقلی کی اطلاعات ہیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کی رپورت کے مطابق کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہوبی کا شہر ووہان پہلے ہی بند ہے جس سے سانس کے مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ چینی صدر ژی جن پنگ کا کہنا ہے کہ وائرس سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

اتوار کو ٹریفک پولیس کی جانب سے ووہان میں ایک کروڑ دس لاکھ گاڑیوں کے سڑکوں پر نکلنے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد شہر کی سڑکیں ویران ہو گئی ہیں۔ اتوار کو ہی بیجنگ سے مسافر بسوں کو بھی ووہان جانے سے روک دیا گیا۔  جنوبی شہر شانتو میں بھی اتوار کی صبح جزوی طور پر داخلہ روک دیا گیا جس کے تحت کاروں کے داخلے پر پابندی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کردیا گیا۔

اس سے قبل پیر کو ٹور گروپس پر پابندی لگادی گئی تھی جب کہ نجی دورے پر ووہان جانے والے لوگوں پر بھی جمعہ سے پابندی عائد ہے۔  نئی اموات کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 56 ہوگئی۔ ان میں سے ہوبی میں سب سے زیادہ 15 افراد ہلاک ہوئے۔

اتوار کی صبح چین کے تجارتی حب کہے جانے والے شہر شنگھائی میں بھی پہلے کیس کے طور پر ایک مریض کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے۔  ووہان کے بعد کسی بڑے شہر میں ہونے والی یہ پہلی موت  ہے۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ وبا سمندری غذا اور زندہ جانوروں کی منڈی کے سبب شروع ہوا ہے۔ جمعہ سے شروع ہونے والے قمری کلینڈر کے آغاز کی خوشی میں ہونے والی تقریبات کو بھی روک دیا گیا ہے۔

دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کے اجلاس میں کہا ہے کہ چین کو اس وائرس کے پھیلنے سے سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ اجلاس میں وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چین کی فوج نے ووہان میں مریضوں کے علاج میں مدد کے لیے 420 ڈاکٹرز ووہان روانہ کیے ہیں۔

یہ وائرس چین سے پوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔ فرانس، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ سمیت اب تک ایک درجن سے زائد ممالک میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ووہان سے جانے والوں مریضوں کو وائرس کی منتقل کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔

امریکہ نے اپنے شہریوں کو چین سے نکل جانے کے لیے خصوصی پروازوں کا انتظام کیا ہے جب کہ فرانس اور سری لنکا بھی اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ایسے ہی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ادھر کینیڈا میں بھی ایک مریض میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جو کینیڈا میں سامنے آنے والا پہلا کیس ہے۔

ووہان میں مقیم ایک خاتون کا کہنا ہے کہ وہ احتیاطاً اور انفیکشن سے بچنے کے لیے ہوٹل تک محدود ہوگئی ہیں۔  اے ایف پی کے کو دیے ایک انٹرویو میں ووہان کے بیشتر باشندوں کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے حکومت جلد اس وبا کو شکست دے دے گی۔

چین سے پھیلنے والے ہلاکت خیز کورونا وائرس کے دیگر ممالک تک پہنچنے کے بعد بیجنگ میں موجود پاکستانی سفارتخانے نے چین میں مقیم پاکستانیوں کے لیے انتباہ جاری کیا ہے۔ چین کے دارالحکومت میں پاکستانی سفارتخانے نے ووہان میں مقیم پاکستانی طلبہ اور دیگر پاکستانی افراد کو چین کے محکمہ صحت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

سفارتخانے سے جاری بیان میں چین کی وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کورونا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتا ہے۔ ووہان کی شہری حکومت نے عوام کو عارضی طور پر طویل فاصلے کے سفر سے روک دیا ہے اور ووہان سے ریلوے اور ہوائی جہازوں کے سفری شیڈول بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

کورونا وائرس کے پیش نظر وزارت خارجہ نے چین میں مقیم پاکستانی شہریوں کے اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق چین کے مختلف حصوں میں تقریباً 28 ہزار پاکستانی طالبعلم موجود ہیں جبکہ 800 پاکستانی تاجر وہاں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ 1500  پاکستانی تاجر ہیں اکثر و بیشتر چین کا سفر کرتے رہتے ہیں۔

وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان کے حوالے سے دفتر خارجہ نے بتایا کہ صرف اس ایک شہر میں 500 کے قریب پاکستانی طلبہ موجود ہیں۔