کیا عمران خان کامیاب ہوجائیں گے

وزیر اعظم پاکستان کی حثیت سے عمران خان نے اگست2018 کو اقتدار سنبھالا تھا اور اس وقت تک ان کے دور حکومت اٹھارہ ماہ کا عرصہ گزار چکی ہے۔ اس عرصہ میں ان کی حکومت اور خود ان کی بطور وزیر اعظم کارکردگی کیا رہی ہے، یہ ایک سوال ہے۔

الیکشن سے پہلے عمران خان سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور ان کی کرپشن کو ”الیکشن مہم ماٹو“  کے طور پر استعمال کرتے ہوئے عوام الناس کی ہمدردیاں سمیٹنے میں کامیاب رہے اور پھر ’ادھر ادھر‘ کی مدد سے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوگئے۔کوئی بات نہیں، ماضی میں بھی ایسی جوڑ توڑ ہوتی رہی ہے لیکن عوام کو کچھ تو ملے؟ ۔عمران خان نے  بطور اپوزیشن لیڈر ٹریننگ کے دوران تمام اہم قومی مسائل سے اگاہی حاصل کر لی تھی جن کی بنیاد پر وہ سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے تھے۔ لہذا وہ  اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کو قومی اور عوامی مسائل سے اگاہی نہیں ہے۔

جتنا برا بھلا انہوں نے اپنی تقریروں میں سب سیاستدانوں کو کہا تھا اس لحاظ سے تو یہی فرض بنتا تھا کہ  اقتدار میں آنے کے بعد وہ فوری طور سے عوامی مسائل کی طرف  توجہ دیتے، لیکن ابھی تک ہو الٹ رہا ہے۔ اور وہ عوامی  حکمران بننے کی بجائے عالمی لیڈر بننے کے خبط میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی غلطی ہے جس کہ وجہ سے ان کی جماعت کی پوزیشن نہ صرف کمزور ہو رہی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی ٹوٹتا اور بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔اپوزیشن نے ان کی مخالفت تو کرنی ہی ہے لیکن اب تک کے عرصہ کی کارکردگی کے عرصہ سے غیر جانبدارانہ تجزیہ نگاروں کے مطابق  عمران خان بھی اپنے اس  پہلے دور کو ”آخری دور“  بنانے کی کوششوں میں اپوزیشن سے زیادہ  مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی بہت معقول ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے اندرونی مسائل کو یکسر نہ صرف نظرانداز کر رکھا ہے۔

تمام معاملات کو ان ساتھیوں پر چھوڑ ا ہوا ہے جو اپنے کاروبار کو وسعت دینے اور لگائے ہوئے سرمایہ کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔ گویا سیاسی سرمایہ کار بھی اپنے لگائے سرمایہ کی وجہ سے پریشان ہیں۔ سود سمیت جلد وصولی کے لئے بیتاب ہیں۔موجودہ حکومت کی طرف سے نظر انداز کئے جانے والے ایشوز میں بجلی کا بحران سب سے اہم  ہے۔ یہ پرانا قومی مسئلہ ہے۔اس بارے موجودہ حکومت خاموش دکھائی دیتی ہے۔

بطورکرکٹر عمران خان نے شہرت کی بلندیوں کو چھویا ہے، بلاشبہ کرکٹ کی دنیا میں ان کے کارنامے اور ریکارڈ یاد رکھے جائیں گے۔1992 کا ورلڈ کپ  نے ان کی زندگی کا اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے جس نے ان کے دو خوابوں کی تکمیل کی، ان میں ایک خواب فلاحی منصوبہ شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر تھی جس کی دنیا بھر میں پزیرائی ہوئی تھی۔ یونسیف کے نمائندہ کے طور پر بھی فلاحی کام کیا۔ فلاحی کام مشرق میں ہوں یا مغرب میں،وہ بہرحال قابل ستائش ہوتے ہیں۔ان کی دنیا بھر میں عزت اور تکریم میں اضافہ بھی کرکٹ کے بعد فلاحی کاموں سے ہوا تھا لیکن سیاست  میں عوامی خدمت  اور ان کے مسائل میں وہ خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے۔

وہ  ابھی تک سیاست کے اندر درست سمت میں قدم نہیں اٹھا سکے، ان کی تقریروں کے اندر بہت خوشحالی، ترقی موجود ہوتی ہے اور ناقابل یقین پاکستان کا نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ تاہم حقیقت میں عوامی مسائل اور مہنگائی دونوں ہی میں اضافہ ہوا ہے۔ابھی تک  ان کی کارکردگی متاثرکن نہیں رہی ہے۔

عمران خان نے کرکٹ اور فلاحی کاموں میں کامیابی کے بعد1990کی دہائی میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔انہوں نے سیاست کی راہ کیوں اختیا ر کی؟ اس بارے وہی خود زیادہ بہتر جانتے ہیں لیکن کچھ باتیں ریکارڈ پر بھی ملتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ1994 انہوں نے حمید گل اور محمد علی درانی کی قیادت میں ایک پاسپان نامی گروپ میں شمولیت کی اور یہیں سے سیاست  میں ان کی دلچسپی کا آغاز ہوا اور پھر 1996میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھ کر باقاعدہ عملی سیاست کا آغاز کیا۔  ان کو ابتداء ہی میں نوجوانوں کی تائید ملنا شروع ہوئی جو بعد میں ان کی سیاسی قوت بھی بنتے گئئے۔

 وزیراعظم بننے سے پہلے وہ دو بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے،ایک بار تو  وہ اپنی جماعت کے واحد ممبر قومی اسمبلی تھے۔ دو دہائیوں کی سیاست کے بعد اب پہلی بار وہ سیاست میں شاید ناکامی کا منہ بھی دیکھنے  والے ہیں کیونکہ وہ بھی اب وہی غلطی کر رہے ہیں جو ماضی میں بڑی جماعتوں کے سیاستدان کرتے رہے تھے، یعنی عوام کے وووٹ سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاؤ پھر اشرافیہ کے نمائندے بن جاؤ۔ابھی بھی ساڑھے تین سال کا عرصہ باقی ہے اور وزیراعظم عمران خان کو عوامی مسائل کے حل اور سرکاری قومی اداروں کے مورال کی بلندی کا بیڑا اٹھانا چاہیے، پہلی فرصت میں اور ترجیحی بنیاد پر کام جو کرنے والا ہے وہ یہ ہے کہ وہ آئین سازی کی طرف توجہ دیں قومی اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔

وفاق اور صوبائی سطح  اسمبلیوں  میں ایسی قانون سازی کرائیں جس کے تحت تمام ممبران اسمبلی، سینٹ اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی قومی و صوبائی اداروں میں ہر قسم کی مداخلت غیر قانونی قرار پائے۔ بجلی کے بحران کی موجودگی میں نہ ترقی ہو سکتی ہے نہ خوشحالی آ سکتی ہے، باہر کے سرمایہ کاری  کا کیا فائدہ اگر ملیں کارخانے اور فیکٹریاں ہی بند ہوں۔ انتہا پسندی کے فروغ کا باعث بننے والی سب دوکانوں کو ملیا میٹ کرنا ہوگا، تعلیمی اداروں کے اندر کے ماحول غیر سیاسی اور غیر مذہبی بنانے ہوں گے۔  پی ٹی آئی حکومت کے اب تک کے عرصہ کی دو ہی یادگاریں ہیں ایک مسئلہ کشمیر اور دوسرا کرتارپور راہداری۔ دیکھیں باقی عرصہ میں کیا کچھ نیا  رونما ہوتا ہے۔