ناراض ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کئے جائیں گے: عمران خان
- سوموار 27 / جنوری / 2020
- 5020
وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ناراض ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے اور جائز مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ لاہور کے ایک روزہ دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ون آن ون ملاقات کی۔
وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات میں صوبہ پنجاب کی مجموعی صورتحال، عوام الناس کو سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی امور کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ علاوہ ازیں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ناراض اراکین اسمبلی کے تحفظات سے وزیر اعظم عمران خان کو آگاہ کیا اور گزشتہ روز ناراض اراکین اسمبلی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی بریفنگ دی۔
جس پر وزیر اعظم نے ناراض ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے اور جائز مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیر اعظم عمران خان کو آٹے، گندم اور چینی بحران پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں آٹے اور گندم کا کوئی بحران نہیں مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف پرائس کنٹرول کمیٹیوں نے فعال کردار ادا کیا ہے۔ فلور ملوں اور مہنگے داموں فروخت کرنے والی چکیوں کو جرمانے کئے اور لائسنس معطل کیے گئے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے عندیہ دیا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف سازشیں کرنے والوں سے آگاہ ہیں لیکن اس پر مزید کچھ نہیں کہا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا کہ اگر موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب کو تبدیل کیا گیا تو نئے وزیراعلی ایک مہینہ بھی نہیں رہ سکیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اِن ہاؤس تبدیلی لانا تقریبا ناممکن ہوگا کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک ووٹ کی اکثریت کے ساتھ منتحب ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کے ارکان صوبائی اسمبلی،اتحادیوں اور 3 آزاد ارکان نے ان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اب پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی اور اتحادیوں کی صورتحال اتنی ہموار نہیں جتنی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے پنجاب حکومت کو پہلے مرحلے میں دیہات میں کونسل انتخابات کے انعقاد کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے عوام کے مسائل کو بنیادی سطح پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے صوبائی حکومت، خصوصی طور پر انتظامیہ اور منتخب نمائندگان کے مابین ایک مربوط اور موثر طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا اور اس ضمن میں صوبائی حکومت کو ہدایات جاری کیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے منشور کا بنیادی عنصر کرپشن کا خاتمہ ہے۔ ایک ’منظم مافیا‘ معاشرے میں حکومت کے خلاف منفی تاثر کو فروغ دے رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ وہی عناصر ہیں جو گزشتہ دہائیوں سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر ہر روز افراتفری کی باتیں کی جاتی ہیں تاکہ جو مثبت انتظامی تبدیلیاں ہم لے کر آ رہے ہیں ان کو ناکام بنایا جائے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اور قبضہ مافیا قانون کی گرفت میں آئی ہیں۔