پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کو گرفتار کرلیا گیا
- سوموار 27 / جنوری / 2020
- 4500
خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے شاہین ٹاؤن سے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
تہکال پولیس اسٹیشن کے عہدیدار شیراز احمد نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کی علی الصبح انہیں گرفتار کیا گیا۔ پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم سربراہ کو ڈیرہ اسمٰعیل خان منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہے۔
پولیس کے مطابق 18 جنوری کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں سٹی پولیس تھانے میں پی ٹی ایم کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 506 (مجرمانہ دھمکیوں کے لیے سزا)، 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کا فروغ)، 120 بی (مجرمانہ سازش کی سزا)، 124 (بغاوت) اور 123 اے (ملک کے قیام کی مذمت اور اس کے وقار کو تباہ کرنے کی حمایت) کے تحت درج کیا گیا۔
دوسری جانب پی ٹی ایم کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن ڈاوڑ نے ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہا کہ یہ پرامن اور جمہوری طریقے میں اپنے حقوق مانگنے کے لیے ہماری سزا ہے۔ منظور پشتین کی گرفتاری سے ہمارے عزم کو تقویت ملے گی۔ ہم منظور پشتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انہوں نے پی ٹی ایم کارکنان اور حامیوں پر زور دیا کہ وہ گرفتاری کے تناظر میں پرامن رہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم مشاورت کے بعد ایک حکمت عملی مرتب کریں گے۔ ہم ان لوگوں کے خلاف ہیں جو آئینی حقوق کے لیے کیے گئے مطالبات پر سب سے زیادہ پریشان ہیں لیکن ہم جد و جہد جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ ایسا اتحاد ہے جو سابق قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبے کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔ اور ایسا کرنے والوں کے خلاف ایک سچے اور مفاہمتی فریم ورک کے تحت ان کے محاسبے کا مطالبہ کرتا ہے۔
پی ٹی ایم ملک کے ان قبائلی علاقوں میں فوج کی پالیسیوں کی ناقد ہے، جہاں حالیہ عرصے میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا تھا۔ پی ٹی ایم کے رہنما خاص طور پر اس کے قومی اسمبلی کے اراکین بغیر کسی عمل کے انتظامیہ کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے لیے فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ پاک فوج کا کہنا کہ یہ پارٹی ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہی اور ریاست کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس پی ٹی ایم کے دو رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو پولیس نے خرقمر میں مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر فوجی اہلکاروں سے تصادم اور تشدد پر گرفتار کیا تھا۔
پی ٹی ایم کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ملک کے قبائلی علاقوں کے عوام کے لیے ان کی پرامن جدوجہد ہے۔