صدر ٹرمپ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کا منصوبہ پیش کر دیا
- بدھ 29 / جنوری / 2020
- 5330
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اسرائیل فلسطین تنازع حل کرنے کے لیے اپنے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی رہنماؤں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ فلسطینی رہنماؤں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا ہے جو فلسطینی رہنماؤں کا کلیدی مطالبہ رہا ہے اور وہ طویل عرصے سے 'دو ریاستی حل' پر زور دیتے آئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے اعلان کو غیر معمولی اور اہم پیش رفت قرار دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ منصوبے میں فلسطین کے زیر انتظام علاقے میں بہت اضافہ کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں مغربی کنارے کی بڑی بستیوں پر اسرائیلی اقتدار کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی یہ تقریب تینوں فریقین کے درمیان تعلقات سے متعلق ایک علامتی اہمیت کی حامل تھی، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیا مین نیتن یاہو امریکی صدر کے ہمراہ موجود تھے، جب کہ فلسطینی رہنماؤں نے کہا ہے کہ انہیں اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔
صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن معاہدے کے تحت بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہو گا اور ابو دس فلسطین کا دارالحکومت کہلائے گا اور دونوں کے درمیان کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو سرحد کا درجہ دیا جائے گا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ امن معاہدے کو تاریخی قرار دیا جب کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس معاہدے کو تاریخ کے منہ پر طمانچہ قرار دیا ہے۔
فلسطینیوں نے کسی بھی ایسی تجویز کو مسترد کردیا جس میں پورے مشرقی یروشلم میں فلسطینی دارالحکومت کا تصور شامل نہ ہو۔ منصوبے کے اعلان سے قبل صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی اور فلسطینیوں کی تشویش کو اہمیت نہیں دی۔ فلسطینی امریکی صدر کے مؤقف کو اسرائیل نواز پالیسیاں قرار دیتے ہیں۔
منصوبے کا اعلان ہونے سے پہلے فلسطینی وزیرِ اعظم محمد اشتیہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا منصوبہ ’فلسطینی سوچ کا گلا گھونٹھے‘ کے مترادف ہے۔
پیر کو صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو اور ان کے سیاسی مخالف بینی گانتز سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔ بعدازاں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی سرحدوں کی تشریح کا تاریخی موقع آن پہنچا ہے۔ گانتز نے امن منصوبے کو اہم اور تاریخی سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ اگر مارچ کے انتخابات میں وہ اسرائیل کے وزیراعظم بنے تو اس پر عمل درآمد کریں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اس منصوبے پر کام کررہی تھی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس کے اعلان میں اس لیے تاخیر کی گئی کہ اسرائیل کی سیاسی صورت حال غیر یقینی رہی۔