جامعہ ملیہ کے باہر احتجاجی طلبا پر فائرنگ، ایک شخص گرفتار
- جمعرات 30 / جنوری / 2020
- 4250
دلی کی جامعہ ملیہ یونورسٹی کے باہر شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر ایک شخص نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک طالب علم زخمی ہو گیا۔ گولی چلانے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
جامعہ کے طلبہ موہن داس گاندھی کی برسی پر گاندھی سمادھی کی طرف مارچ کے لیے جامعہ کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔ اچانک ایک شخص ہوا میں ریوالور لہراتے ہوئے نمودار ہوا اور گولی چلا دی۔ گولی چلاتے وقت وہ کہہ رہا تھا ’یہ لو آزادی۔ ہندوستان زندہ باد، دلی پولیس زندہ باد۔‘
جس وقت فائرنگ کا یہ واقعہ ہوا اس وقت وہاں بڑی تعداد میں پولیس تعینات تھی۔ حملہ آور کو پکڑ لیا گیا ہے اور ان کا نام گوپال بتایا گیا ہے۔ زخمی ہونے والے طالب علم کو ہاتھ میں گولی لگی ہے اور انہیں جامعہ کے نزدیک واقع ہولی فیملی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
جامعہ میں فائرنگ کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دوروز قبل دلی کی ایک انتخابی ریلی میں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر وہاں موجود لوگوں کو ’دیش کے غداروں کو گولی مارنے‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔ ان کا اشارہ جامعہ اور شاہین باغ کے احتجایوں کی طرف تھا۔ الیکشن کمیشن نے تشدد بھڑکانے کی شکایت کے بعد انوراگ ٹھاکر پر کچھ پابندیاں عائد کی تھیں۔
بی جے پی نے دلی کے ریاستی انتخابات میں شہریت قانون کی مخالفت کرنے والوں بالخصوص شاہین باغ کے احتجاجیوں کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ وہ اپنی ریلیوں میں انہیں ملک توڑنے والے، ملک دشمن اور غدار قرار دے رہے ہیں۔
شاہین باغ میں ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے سینکڑوں خواتین متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ آج موہن داس گاندھی کی برسی کے موقع پر پورے انڈیا میں جگہ جگہ شہریت قانون اور نفرت کی سیاست کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔