چین سے پاکستانیوں کو نکالنے کا مطالبہ، سینیٹ میں حکومت پر نکتہ چینی

  • جمعہ 31 / جنوری / 2020
  • 5750

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث حکومت پاکستان نے چین میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے کے فیصلے کیا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن نے اس فیصلہ پر سخت تنقید کی اور ہم وطنوں کو فوری طور پر وطن واپس لانے کا مطالبہ کیا۔

سینیٹ میں پاکستانی طلبہ کو وطن واپس نہ لانے کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ چینی شہری پاکستان آرہے ہیں لیکن پاکستانیوں کو نہیں آنے دیا جارہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن وزیر صحت نے کہا ہے کہ ان پاکستانیوں کو واپس نہیں لانا چاہتے۔ عثمان کاکڑ نے تجویز دی کہ وائرس سے متاثرہ افراد کو واپس لاکر ان کے لیے ایک جگہ مختص کی جائے۔

سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس وبا بھی ہے آفت بھی ہے جس کے لیے وزارت خارجہ اور وزارت صحت کو اقدامات کرنے چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین میں پاکستانی سفارتخانہ موجود ہے لیکن کوئی ایکٹو نظر نہیں آ رہا جبکہ پاکستان میں بھی ابھی تک قرنطینہ نہیں بن سکا۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہو تو ہم جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کا چین سے انخلا نہ کرنے کا فیصلہ غلط ہے کیوں کہ باقی ممالک اپنے لوگوں کا انخلا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تاحال کوئی حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے۔ ہمیں اس آفت اور وبا سے لڑنا چاہیے، مائیں رو رہی ہیں اور ہم نے بچوں کو نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں ماؤں کے رونے سے ڈرنا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ وائرس میں چین کا کوئی قصور نہیں ہے، چین خود اس وائرس سے متاثر ہوا ہے۔ وقت بتائے گا کہ وائرس کیسے پھیلا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ خود طیارے کا بندوبست کرکے غیر ملکی شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے نکال رہے ہیں، حکومت کا پاکستانیوں کو چین سے نہ نکالنے کا فیصلہ درست نہیں ۔

جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت پاکستان، چین میں پاکستانی طلبہ کے والدین کے ساتھ رابطے میں رہے۔ چین میں محصور پاکستانیوں کے پاس پیسے نہیں ہیں۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے حکومتی اقدام کی تائید کی۔ سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹ اجلاس میں بتایا کہ چین میں موجود پاکستانی طلبہ کے اکاؤنٹس میں 840 ڈالرز جمع کرائے گئے ہیں اور ہم چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت صورت حال کو مانیٹر کر رہی ہے اور ہم سمجھتے ہیں چینی حکومت پوری طرح سے دیکھ بھال کر رہی ہے۔

اس موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ریمارکس دیے کہ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ ہمیں بھی مشکل کی اس گھڑی میں چین کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی ڈاکٹرز ریسرچ میں چین کی مدد کرسکتے ہیں تو انہیں کرنی چاہیے اور اگر پاکستانی ڈاکٹرز چین جا کر مدد کرنا چاہتے ہیں تو وہ سینیٹ ہیلتھ کمیٹی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

اس دوران چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے خلاف چینی حکومت پاکستانی برادری کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے اور ان کو اپنے شہریوں کی طرح سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں چین میں کورونا وائرس کے حملے اور وبا سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس دوران پاکستان نے چین جانے والی پروازیں معطل کردی ہیں۔ محکمہ شہری ہوابازی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فی الحال یہ پابندی دو فروری تک نافذ العمل رہے گی، جس کے بعد اس پر نظرِ ثانی کی جائے گی۔  سول ایوی ایشن کے نوٹیفیکیشن میں اس پابندی کی وجہ تو بیان نہیں کی گئی ہے، تاہم یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب چین میں کورونا وائرس کی وبا کے سبب 213 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ چین کے مختلف ائیرپورٹس پر ڈیڑھ سو پاکستانی شہری پھنسے ہوئے ہیں لیکن حکومت کی پالیسی کی وجہ سے انہپیں ملک واپس نہیں لایا جاسکتا۔