برطانیہ 47 سال بعد یورپی یونین سے علیحدہ ہوگیا

  • ہفتہ 01 / فروری / 2020
  • 5970

یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی جانب سے برطانیہ کو اتحاد سے علیحدہ کرنے کی حتمی منظوری کے بعد برطانیہ تقریباً نصف صدی بعد یورپی یونین سے الگ ہوگیا ہے۔

مطابق برطانیہ اس اتحاد سے مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے الگ ہوا۔ اس موقع پر خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد پارلیمنٹ اسکوائر کے سامنے موجود تھی۔ برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر روشن کی گئی گھڑی نے بھی یورپی یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

اس اعلان کے ساتھ ہی برطانیہ میں اہم عمارتیں برطانوی پرچم کے رنگ میں رنگ گئیں، بیلجیم میں برطانوی سفارتخانے سے یورپی یونین کا پرچم اتار دیا گیا جبکہ برسلز سے یونین جیک بھی ہٹادیا گیا۔ ادھر بریگزٹ پر عمل سے کچھ گھنٹے پہلے برطانوی کابینہ کا علامتی اجلاس ہوا۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بریگزٹ کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور حقیقی قومی تبدیلی قرار دیا۔

یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ تاہم بریگزٹ کے پہلے مرحلے میں برطانوی عوام کو زیادہ تبدیلیاں نظر نہیں آئیں گی کیونکہ برطانیہ اور یورپی یونین نے اہم معاملات مکمل کرنے کے لیے 11 ماہ کا وقت دیا ہے۔ دسمبر 2020 تک برطانیہ میں یورپی یونین کے قوانین ہی لاگو رہیں گے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بریگزٹ کو تاریخی انتباہ قرار دیا اور کہا کہ یورپی اتحاد کو اب خود کو بہتر بنانا چاہیے۔ ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'یہ مایوس کن دن ہے، اپنے غم کو چھپانا نہیں چاہتے تاہم یہ وہی دن ہے جس سے اب ہم مختلف کام کر سکیں گے'۔ انہوں نے کہا کہ یورپی شہریوں کو متحد یورپ کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کرسکیں۔

واضح رہے کہ دو روز قبل بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی پارلیمنٹ میں مباحثے کے بعد بریگزٹ معاہدے کی منظوری کے لیے ووٹنگ ہوئی جس کے حق میں 621 اور مخالفت میں صرف 49 اراکین نے ووٹ دیا تھا۔ یورپی یونین کی 27 رکن ریاستوں نے گزشتہ برس اکتوبر میں ووٹ دے دیا تھا۔

بریگزٹ معاہدے کی ووٹنگ کے دوران 13 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ نہیں دیا اور ووٹنگ کے عمل کے بعد برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 73 اراکین کے لیے الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا جہاں روایتی گیت بھی گائے گئے۔ برطانوی دارالعوام نے 10 جنوری کو بریگزٹ معاہدے کی منظوری دی تھی جس کے تحت برطانیہ 31 جنوری کو یورپی یونین سے الگ ہونے کے امکانات واضح ہوگئے تھے۔

دارالعوام میں رائے شماری کے دوران بریگزٹ معاہدے کی حمایت میں 330 اور مخالفت میں 231 ووٹ ڈالے گئے۔ بعد ازاں دارالامرا سے 23 جنوری کو بل منظور ہوا تھا اور اسی روز ملکہ ایلزبیتھ نے بل پر دستخط کردیے تھے جو قانون بن گیا تھا جس کے بعد برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم ہوگئی تھیں۔

واضح رہے کہ 26 جون 2016 کو برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈال کر بریگزٹ کو کامیاب بنایا تھا تاہم یورپی یونین سے کس طرح نکلا جائے اس پر تقسیم اس قدر بڑھ گئی تھی کہ بغیر معاہدے، یونین کو چھوڑنے کا  خوف برطانوی عوام اور سیاستدانوں کو ستانے لگا تھا۔ بریگزٹ کا معاملہ کئی برس سے زیر بحث تھا اور بریگزٹ کی منظوری میں ناکامی پر برطانوی وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔