پاکستان کی سیاحت میں اضافہ ممکن ہے

تقریب میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے اور پاکستان کے اندر غیر ملکی سیاحت کے فروغ کے لیے حکومتِ پاکستان کی واضح ہدایات ہیں۔

 ہمیں اُمید ہے نئے قونصلیٹ جنرل اگلے تین برس میں آسٹریلیاکی حد تک ان امور میں بہتری ضرور لائیں گے جن کا انہوں نے اس تقریر میں تذکرہ کیا ہے۔ورنہ ایسی تقریریں ہم پاکستانی ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں۔ جب بھی ٹی وی آن کریں تو پاکستان کا کوئی نہ کوئی وزیر اور مشیر تقریر کرتا نظر آئے گا۔ تقریروں میں بڑے بڑے دعوے سننے کے بھی ہماری قوم عادی ہے۔ مثلاََ ہم غربت ختم کر دیں گے۔ ہم کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکیں گے۔ ہم بیروزگار ی نہیں رہنے دیں گے۔ ہم اب چوروں، ڈاکووٗں اور جرائم پیشہ عناصر کو لوٹ مار کی اجازت نہیں دیں گے (جیسے یہ لوگ پہلے این او سی لے کر یہ کام کرتے تھے) وغیرہ وغیرہ۔ہم پچھلے ستر سال میں ایسے ایسے حکمران بھگت چکے ہیں، اتنے وعدے اور اتنی تقریریں سن چکے ہیں کہ اب نئے وعدے اور تقریریں سن کر ہنسی آتی ہے۔اصل مسئلہ ان تقریروں اور وعدوں پر عمل درآمد کا ہے۔خواب تو سب دکھاتے ہیں۔ ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے والوں کے لیے آنکھیں ترس گئی ہیں۔

 جہاں تک پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان سیاحت کے لیے انتہائی پر کشش ملک ہے۔ہمارے ہاں بعض ایسے تاریخی، مذہبی اور قدرتی مقامات ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہیں ہیں۔جغرافیائی لحاظ سے بھی پاکستان انتہائی موزوں مقام پر واقع ہے جہاں دنیا کے مختلف خطوں سے آمدو رفت بہت آسان ہے۔پاکستان کے شمالی علاقہ جات بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ایک لحاظ سے نیا اور سرپرائز پیکیج ثابت ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ دنیا کے مشہور سیاحتی مقامات بیشتر سیاحوں نے دیکھ رکھے ہیں۔ان کی فلمیں بن چکی ہیں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور ان کا ایک ایک گوشہ انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج کل سوشل میڈیا سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں رہا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں سیاحوں کے لیے اچھوتے، دلفریب اور قدرتی حسن سے معمور علاقے موجود ہیں جو بین الاقومی سیاحتی اداروں کی نظر میں آئیں تو تہلکہ مچا سکتے ہیں۔پاکستان میں سکھ،بُدھ ازم، ہندو اور عیسائی مذاہب کے انتہائی اہم مقدس مقامات ہیں۔ جہاں دنیا بھر سے سیاح آسکتے ہیں اور ان کے ذریعے پاکستان کی عام سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے۔

پاکستان میں سیاحوں کی کشش کی ایک اور وجہ اشیا  اور خدمات کی ارزانی بھی ہو سکتی ہے۔یورپ، امریکہ،آسٹریلیا، جاپان، سنگاپور اور دیگر بے شمار ممالک کی نسبت پاکستان میں اشیائے خوردو نوش، قیام اور نقل و حمل نہایت ارزاں ہے جو سیاحوں کے لیے  ہمیشہ باعثِ کشش ہو تا ہے۔یورپ اور امریکہ میں ٹیکسی کے ایک گھنٹے کے کرائے میں پاکستان میں پورے دن کے لیے کار کرائے پر مل سکتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل میں اسکینڈے نیوین ممالک کی سیاحت کے لیے گیا تو اوسلو، کوپن ہیگن اور سٹاک ہوم میں درمیانے سے ہوٹل کے چھوٹے چھوٹے کمروں کا کرایہ تقریباََ بیس ہزار روپے فی رات تھا۔ اسی طرح چند اشیا پر مشتمل عام سا ناشتہ دو ہزار روپے میں ملتاتھا۔ کوپن ہیگن ائر پورٹ سے شہر تک ٹیکسی کا کرایہ پندرہ ہزار روپے بنتا ہے جو ایک گھنٹے سے بھی کم سفر ہے۔ جبکہ پاکستان میں دس ہزار روپے میں پورے دن کے لیے کارڈرائیور کے ساتھ مل سکتی ہے۔اس طرح پاکستان میں ہوٹل، کھانا، ملازم اور دیگر اشیا بہت سستی ہیں۔

پاکستانی کھلے دل کے مالک، مہمان نواز اور خوش رہنے والی قوم ہے جو غیر ملکیوں کے لیے خوشگوار امر ہو گا۔  سیاحت کے فروغ سے تجارت اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو گا۔پاکستان میں روزگار بڑھے گا۔ ہوٹلنگ، نقل و حمل، کھانے پینے کی صنعت  اور دیگر خدمات مہیا کرنے والوں  بلکہ ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بہتر ہو گا  اور پاکستانیوں کی عزت میں اضافہ ہو گا۔

یہ سب باتیں  حقیقت بن سکتی ہیں اور ممکن العمل ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ سیاحوں کو ترغیب دینے، ان کے لیے سہولیات فراہم کرنے، ٹرانسپورٹ، سڑکیں، ہوٹل، بیت الخلا، پینے کا صاف پانی، سیاحوں کی حفاظت اور سیاحتی مقام کی صفائی ستھرائی کون کرے۔ غیر ملکی سیاحوں کو جو معلومات، خدمات اور سیکورٹی کی جس یقین دہانی کی ضرورت ہے وہ کون فراہم کرے۔ ابھی تک تو اس سمت میں ذرا سی پیش رفت بھی  نظر نہیں آتی۔ سڑکوں، ٹرانسپورٹ، بیت الخلا اور دیگر  سہولتوں کی جو حالت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سرکاری اداروں سے مدد طلب کرنا تو بعد کی بات ہے ان تک رسائی ہی نا ممکن ہے۔

بیرونی ملکوں میں ہمارے سفارت خانے اور قونصلیٹ کے دفاتر اکثر فون اٹھانے کے متحمل نہیں ہوتے۔ سائلین کے لیے صرف مختصر وقت کے لیے کھلتے ہیں۔ جو سائلین وہاں جاتے ہیں ان کی مدد کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ان کے لیے سہولت مہیا کرنے، معلومات فراہم کرنے، کوئی پیکیج یا ڈیل کا بندوبست کرنے کے بجائے ویب سائٹ سے مدد لینے اور اپنی مدد آپ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔اس طرح کے کئی واقعات کا میں خود شاہد ہوں۔

اسی طرح پاکستان کے ہوائی اڈوں، شہر کے اہم مقامات اور سیاحتی جگہوں پر معلوماتی ڈیسک موجود نہیں ہیں اور نہ ہی معلومات اور مدد فراہم کرنے کا جدید اور مربوط نظام موجودہے۔ حکومت اگر چاہے تو اجتماعی سیاحتی دورے یا پیکیج ترتیب دے سکتی ہے۔ سیاحوں کو ائر پورٹ  سے مطلوبہ مقام تک اپنے زیرِ نگرانی اور زیرِ انتظام لے کر جا سکتی ہے۔ بے شک اخراجات سیاحوں سے پورے کریں مگر سہولیات تو فراہم کی جا سکتی ہیں۔ آخر سیاحتی مقام کی صفائی ستھرائی میں کیا امر مانع ہے۔ ایسے خوبصورت مقامات پر کچرے کی موجودگی، بیت الخلاکی عدم صفائی، پانی کا نہ ہونا، اور ناپسندیدہ افراد کی وجہ سے سیاحوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دُکانوں اور ریستورانوں پر نظر رکھ کر سیاحوں کو مناسب قیمت پر معیاری اشیا  فراہم کرنے میں کون سی مشکل ہے۔

آپ گلگت تک ٹرین لائن نہ بچھائیں مگر سڑکیں تو ٹھیک رکھیں۔ صفائی کا بندوبست تو کریں۔ سیاحوں کی حفاظت کو تو یقینی بنائیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقریں نہیں عمل کر کے دکھائیں۔ آپ کی تقریروں سے نہ عوام کا پیٹ بھرتا ہے نہ ملک ترقی کرتا ہے۔ بلکہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔