ایک وائرس کی مار۔۔۔
- تحریر
- ہفتہ 01 / فروری / 2020
- 4040
وُوہان شہر کا نام ہم سے کتنے لوگوں نے سنا ہوگا؟ شاید بہت کم لوگوں نے۔ وسطی چین کے صوبے ہوبی کا دارالحکومت ہے۔ علاقے کا ایک بڑا شہر اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز جسے چین کے دو مشہور دریا یانگ زی اور ہان تقسیم کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ وُوہان شہر میں کئی خوبصورت پا رکس اور جھیلیں ہیں۔
اس کی آبادی ایک کروڑ دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کا وہی معمول جو چین کے دیگر بڑے شہروں کا ہے، ائیرپورٹ، ٹرین اسٹیشن، فیری، بسوں اور سڑکوں پر مسلسل ایک اژدھام۔ مارکیٹس میں بھی وہی کیفیت، حدِ نظر خلقِ خدا، کان پڑی آواز سنائی نہ دے مگر پچھلے چھ سات ہفتوں میں اس شہر کے سارے منظر بدل گئے ہیں۔ ائیر پورٹ بند ہے، ٹرین اسٹیشنوں پر ہو کا عالم طاری ہے، بسوں اور فیری کے اڈے بھی ویران ہیں۔ بازار سنسان اور سڑکوں پر جیسے بھوتوں کا راج ہو۔
قریب سات ہفتے قبل اس شہر کی گوشت و فش مارکیٹ میں ایک نیا اور مہلک وائرس دریافت ہوا جسے کرونا وائرس کا نام دیا گیا۔ تیزی سے پھیلنے والا یہ وائرس متعدی ہے یعنی ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے۔ تیزی سے پھیلتے اس وائرس کو مزید پھیلاؤ سے روکنے اور اس کے نقصانات کو محدود کرنے کے لئے چینی حکومت نے 23 جنوری سے شہر کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر رکھا ہے۔ ان حفاظتی اقدامات اٹھانے تک البتہ یہ وائرس اس شہر سے بہت دور دور تک پہنچ چکا تھا۔
وائرس کی دریافت اور شہر کو لاک ڈاؤن کرنے تک پچاس لاکھ لوگ شہر میں آئے اور گئے۔ اس دوران چین کے نئے سال کے روایتی آغاز پر بھی لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹے۔ کل تک دوسو سے زائد اموات کی تصدیق ہو چکی تھی جبکہ نو ہزار سے زائد لوگ اس متعدی وائرس کا شکار ہیں۔ متاثرہ لوگوں کی تعداد میں حیرت انگیز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری تصدیق کے مطابق یہ وائرس چین کے تمام اکتیس صوبوں تک پہنچ چکا ہے۔ نہ صرف چین میں اس کا پھیلاؤ حیران کن تیزی سے ہوا بلکہ احتیاطی تدابیر کے باوجود دنیا کے انیس سے زائد ممالک میں یہ وائرس پہنچ چکا ہے۔
ہانگ کانگ نے چین کے ساتھ اپنی سرحدوں کو تقریباٌ بند کر دیا ہے۔ بہت سے ممالک نے فضائی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ یہ سب کچھ اس تیزی سے ہوا کہ بہت سے لوگوں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں لاکھوں لوگ دنیا کی دوسری سب سے بڑی اکونومی یعنی چین میں روزانہ آتے جاتے ہیں۔ تعلیم، کاروبار اور دیگر کام کاج کے سلسلے میں ہر ملک کے ہزاروں لاکھوں لوگ چین میں مقیم ہیں۔ پاکستان سے سینکڑوں طلباء اور لوگ بھی وُوہان میں موجود تھے جو اس لاک ڈاؤن میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ سرحدی راستے اور شمالی علاقوں سے چین کے قریب ترین شہر ارمچی میں سینکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ پروازیں معطل ہیں۔ ایسے میں ویزوں کی محدود مدت کی تلوار سر پر معلق ہے۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق ایسے عالم میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لئے بے یقینی اور بے چینی کے ساتھ ساتھ رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات ایک الگ روگ ہے۔ سفر میں ہلکی ہوئی جیب ان اچانک اخراجات کا بوجھ کیسے اٹھائے؟
وُوہان اور ارمچی میں پھنسے پاکستانی دہائیاں دے رہے ہیں کہ انہیں ہنگامی بنیادوں پرواپس لانے کی فوری صورت نکالی جائے۔ جاپان، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو چارٹرڈ پروازوں سے واپس منگوایا۔ پاکستان کی حکومت کے بیانات میں ہمدردی تو ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم آپ کے ساتھ ہیں، مدد کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ، چینی حکومت سے رابطے میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ تاہم حکومت نے وائرس کے پاکستان میں پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر وُوہان میں پھنسے پاکستانیوں کو ملک میں فوری واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ وائرس کتنا خطرناک ہے؟ جس تیزی سے یہ پھیلا ہے اور جتنی بڑی تعداد اور علاقوں کو متاثر کر چکا ہے اس کی بنیاد پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسے عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ حالیہ دو دِہائیوں میں یکے بعد دیگرے کئی خطرناک وائرس بیماریوں نے سر اٹھایا اور ہزاروں افراد کو موت کی آغوش میں دھکیل دیا۔ ایچ آئی وی ایڈز کا وائرس تباہ کن ثابت ہوا، مغربی افریقہ کے تین ممالک میں 2014-15 کے دوران ای بولا وائرس نے گیارہ ہزار سے زائد افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔ 2009 میں ایچ وب این ون وائرس نے ہیبت اور تباہی پھیلا دی، سوا سال میں اٹھارہ ہزار افراد لقمہ ء اجل بن گئے۔ 2003 میں تنفس کی بیماری سارس نے پونے آٹھ سو افراد کو نگل لیا۔ دنیا ایک گلوبل ولیج ہے، کہنے میں بہت بھلا اور خوش کن لگتا ہے لیکن ایسی بیماریوں کے پھیلاؤ میں ائیر ٹریول سمیت تیز ترین سفر کے سب وسیلے اسی تیزی سے ان کے پھیلاؤ کا باعث بھی بنتے ہیں۔
دنیا کے معمولات گزشتہ تین دِہائیوں سے کچھ اس طرح ترتیب پا چکے ہیں کہ عالمی تجارت اور پیداوار کی سپلائی چین میں ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ افرادی قوت، خام مال، اشیائے خوراک و دیگر اشیاء کے لئے ایک دوسرے پر انحصار اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ جب کبھی سپلائی چین میں اچانک رخنہ اندازی ہوتی ہے تو اس انحصار کی شدت کا اندازہ ہوتاہے۔ چین ایشیائی اور دنیا کے تقریباٌ ہر ملک کا پہلے، دوسرے یا تیسرے نمبر پر سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے۔ وائرس کا خوف اس قدر زیادہ اور حقیقی ہے کہ بہت سے ممالک کے ساتھ چین کی معمول کی تجارتی سپلائی اور فضائی رابطے دھڑا دھڑ بند کئے جا رہے ہیں یا بہت کم کئے جا رہے ہیں۔
پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈ پارٹنر چین ہے۔ ہماری کل چودہ ارب ڈالرز کی تجارت میں برآمدات تو دوارب ڈالرز کے لگ بھگ ہیں مگر درآمدات بارہ ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہیں۔ اپنے آس پاس گھر، مارکیٹ، فیکٹریوں اور دفاتر میں گِن کر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم چین سے درآمدی اشیاء پر کس قدر انحصار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے شیخ رشید جیسے جہاندیدہ سیاست دان اور وزیر نے اپنے ایک انٹرویو میں ٹھیک اندیشہ ظاہر کیا کہ چین سے اشیاء کی سپلائی میں رخنہ اندازی سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
کرونا وائرس کے ہاتھوں چین اور دنیا کے معاشی نقصان کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے، حتمی نقصان کا دارومدار اس کے پھیلاؤ اور ہلاکت خیزی پر ہو گا۔ پاکستان پر وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ معاشی اثرات کا اندیشہ بھی ہے۔ وُوہان میں چار پاکستانی کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان میں ابھی تک کنفرم کیس تو رپورٹ نہیں ہوا لیکن وسیع پیمانے پر چین کے ساتھ آمد و رفت کے پیشِ نظر جلد یا بدیر کرونا وائرس کے یہاں پھیلاؤ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
چین میں مقیم اور مسافر پاکستانیوں کے پھنسنے اور ان کے متاثر ہونے، پاکستان میں موجود چینی اور ہم وطن ممکنہ متاثرین ، تجارت اور سپلائی چین پر امکانی اثرات کا حساب کتاب جوڑیں تو پاکستان پر اس وائرس کے خطرات کے سائے کافی گہرے ہو سکتے ہیں۔ حکومت اور عوام کو ہر ہنگامی صورت کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ خطرہ ابھی مسلسل پھیلاؤ میں ہے۔