تنخواہوں میں اضافے پر تنقید، پی ٹی آئی کے پارلیمانی سربراہ کا بل واپس لینے کا عندیہ

  • اتوار 02 / فروری / 2020
  • 4530

اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق بل پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن کی تنقید کے بعد سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی سربراہ سجاد حسین طوری نے بل واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔

سجاد حسین طوری آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے تھے تاہم گزشتہ برس انہیں سینیٹ میں پی ٹی آئی کا پارلیمانی سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے2 فروری کو سینیٹ میں تنخواہوں میں اضافے کا بل پیش کرنا تھا۔ سجاد حسین طوری نے کہا کہ کچھ لوگ نمبر گیم کی وجہ سے بل کی مخالفت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کی ضرورت ہے اور دعویٰ کیا کہ 104 اراکین میں سے 85 فیصد نے بل کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بل سے متعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور اگر اتفاق رائے نہ ہوسکا تو بل واپس لے لیں گے۔  دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے تنخواہوں میں تجویز کردہ اضافے کو نامناسب قرار دیا اور کہا کہ ملک اب تک معاشی بحران سے باہر نہیں نکلا۔  انہوں نے کہا کہ اگر اراکین اسمبلی تنخواہوں میں اضافہ کریں گے تو خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑے گا۔

اسد قیصر نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ تب کیا جائے جب ملکی خزانہ اس بوجھ کو برداشت کرسکے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی  کے رہنماؤں نے اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں دو گنا اضافے کے بل کی مخالفت کردی جو کل سینیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات اسد عمر نے کہا کہ امید ہے کہ میڈیا میں پارلیمنٹ کے ارکان کی تنخواہ بڑھانے سے متعلق سینیٹ کی قرارداد کی خبریں درست نہیں۔  انہوں نے کہا کہ ان حالات میں بالکل بھی مناسب نہیں کہ عوامی نمائندے اپنی مراعات میں اضافہ کریں۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بیان دیا کہ ان کی جماعت بل کی حمایت نہیں کرے گی۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ اس وقت پاکستانی عوام کو معاشی بحران کا سامنا ہے اور ایسے موقع پر دیگر افراد سے تنخواہوں کی برابری نہیں کی جاسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری پیسے کو اس وقت عوام کے ریلیف پر خرچ ہونا چاہیے۔