کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جاسکتا: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

  • سوموار 03 / فروری / 2020
  • 4200

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پشتون تحفظ موومنٹ  کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج پر گرفتار کیے گئے کارکنان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پشتون تحفظ موومنٹ اور عوامی ورکرز پارٹی  سے تعلق رکھنے والے 23 کارکنان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی عدالت میں غیرحاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آئی جی کہاں ہیں انہیں بلایا تھا، جس پر ڈی آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ وہ چھٹی پر ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈپٹی کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہمیں آپ سے اور موجودہ حکومت سے یہ توقع نہیں تھی۔ کیا آپ نے ایف آئی آر پڑھی ہے۔ دہشت گردی کی دفعات کس قانون کے تحت لگائی گئی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ موجود ہے جس میں دہشت گردی کی تعریف بیان کی گئی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ ریاست کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ریاست کا کام لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔ آپ کسی کے محب وطن ہونے پر کیسے شک کر سکتے ہیں؟ سماعت کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ آئینی عدالتیں اس معاملے پر آنکھیں بند رکھیں گی۔  اس مقدمے کی تہ تک جائیں گے۔ اگر حکومت نے کچھ غلط کیا ہے تو اسے مانیں۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے کہا کہ انتظامیہ ایک ہفتے میں اس معاملے کو دیکھ کر رپورٹ جمع کروائیں۔ عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا اور کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔