چین سے پروازیں بحال، پھنسے ہوئے پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

  • سوموار 03 / فروری / 2020
  • 4110

حکومت کی جانب سے چین کا فضائی آپریشن بحال کیے جانے کے بعد 3 پروازیں مسافروں کو لے کر پاکستان پہنچ گئی ہیں۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کو عالمی ہنگامی صورتحال قرار دیے جانے کے بعد پاکستان نے چین کے ساتھ اپنی پروازیں فوری طور پر 2 فروری تک کے لیے معطل کردی تھیں۔

سینئر جوائنٹ سیکریٹری آف ایوی ایشن عبدالستار کھوکھر نے بتایا تھا کہ ہم چین کے ساتھ اپنا فضائی آپریشن بحال کررہے ہیں چینی سدرن ایئر لائنز کی ایک پرواز 145 مسافروں کو لے کر صبح 9 بجے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اترے گی۔ حکام کے مطابق چین ارومچی سے آنے والی پروازوں سے مجموعی طور پر 143 طالبعلم اسلام آباد پہنچے جن کی اسکریننگ کا عمل ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل کیا گیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی تصدیق کی کہ پروازوں کی بحالی کے بعد چین سے 2 پروازیں پاکستانی مسافروں کو لے کر آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان میں موجود چینی سفارتکار کے ہمراہ چین سے پاکستان آنے والے مسافروں کو ریسکیو کیا جس مں 57 پاکستانی، 12 چینی شہری شامل تھے۔

انہوں نے ایئرپورٹ پر مسافروں کی اسکریننگ کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ایئرپورٹس پر اسکریننگ سسٹم کو مزید بہتر بنادیا گیا ہے اور حکومت ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ قومی ادارہ صحت میں ممکنہ کورونا وائرس کیسز کی تشخیص کی سہولت موجود ہے۔

بعد ازاں تیسری پرواز بھی، چین سے مزید 86 مسافروں کو لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئی۔ اس پرواز میں پاکستانی طلبہ اور دیگر افراد پر مشتمل وہ گروپ بھی شامل تھا جو پروازیں معطل ہونے کے باعث ارومچی ایئرپورٹ پر پھنس گیا تھا جس کے بعد ان کے ویزوں کی معیاد میں 11 روز کی توسیع بھی کردی گئی تھی۔ ایک روز قبل ہی چین سے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ایک ہزار کٹس پاکستانی حکومت کو موصول ہوئی تھیں۔

این آئی ایچ لیبارٹری کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلمان نے بتایا تھا کہ ملک بھر میں حاصل کیے گئے نمونے ٹیسٹ کے لیے این آئی ایچ بھیجے جائیں گے جہاں ان کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور ہم نے اس کے لیے باقاعدہ ایک طریقہ کار بھی وضع کرلیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت پاکستان نے بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر نوول کورونا وائرس کیسز کی انتظامیہ کو لیبارٹری آلات اور تکنیکی معاونت فراہم کی ہے۔

اس دوران چین میں ہلاکت خیز کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 360 سے تجاوز کر گئی ہے جو 2 دہائیوں قبل سارس وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ سارس وائرس سے مجموعی طور پر 774 افراد کی اموات ہوئی تھی جبکہ زیادہ تر ہلاکتیں ہانگ کانگ میں ہوئی تھیں۔

دوسری جانب حال ہی میں ہلاک ہونے والوں میں درجنوں افراد کی اموات وبا کے مرکز ووہان شہر کے قرنطینہ بنائے گئے علاقے گراؤنڈ زیرو میں ہوئی۔ وائرس کے خطرے کے پیش نظر کئی ممالک نے چین سے آنے والے مسافروں پر پابندی لگادی تھی اس کے باجود یہ وبا دنیا کے 24 ممالک تک پھیل چکی ہے۔