کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی تجارت متاثر
- منگل 04 / فروری / 2020
- 4570
چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 425 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ 20000 سے زیادہ تصدیق شدہ کیس سامنے آچکے ہیں۔ چین سے باہر کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص فلپائن میں اور ایک ہانگ کانگ میں فوت ہؤا۔
کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں مختلف نوعیت کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس حوالے سے تیل فراہم کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور ان کے اتحادیوں کی رواں ہفتے ملاقات متوقع ہے۔ جنوری کے مہینے میں قیمتوں میں اضافے کے بعد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اب تک 20 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
چینی نئے سال کے موقع پر چھٹیوں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین بھر میں سفری پابندیاں لاگو ہیں۔ چین دنیا بھر میں تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور وہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل استعمال کرتا ہے۔ لیکن ان چھٹیوں اور تجارتی سرگرمیوں کے بند ہونے کے باعث وہاں تیل کی طلب میں واضح کمی آئی ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے طیاروں میں ڈالے جانے والے جیٹ فیول کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ دنیا بھر کی کئی فضائی کمپنیوں نے چین کے لیے اپنے پروازیں معطل کر دی ہیں اور ملک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ چین میں تیل کی طلب میں واضح کمی کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کاروباری سرگرمیوں میں کمی آ رہی ہے اور اس میں مزید کمی متوقع ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین کی اپنی اقتصادی ترقی کی شرح آہستہ ہو رہی تھی اور تین دہائیوں میں سب سے کم شرح تک پہنچ گئی ہے۔
چینی حکومت کے تعاون سے چلنے والے ایک تھنک ٹینک کے ماہر ژانگ منگ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے چین کی سالانہ اقتصادی ترقی کی کی شرح اس سال کے پہلے تین ماہ میں پانچ فیصد سے بھی کم ہو گی۔ واضح رہے کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور وہاں پر کاروبار میں منفی رحجان کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ خدشہ ہے کہ دنیا بھر میں تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک تیل کی پیداوار میں کمی کریں گے۔ اوپیک تنظیم کے ممبر رکن ایران نے پیر کو کہا کہ تیل کی قیمتوں کا سہارا دینے کے لیے اقدامات لیے جائیں۔
پاکستان میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی سبزیاں جیسے لہسن، ادرک کو سمندری راستے کے ذریعے چین سے منگوایا جاتا ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تجارت میں کمی آئی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سبزی منڈی میں اب لہسن اور ادرک کی قمیت میں 25 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں کی سبزی منڈیوں اور سپر سٹورز میں لہسن کی قیمت 400 رپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
اس دوران چین کی اعلیٰ قیادت نے مہلک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے جواب میں ملک کے ردعمل میں پائی جانے والی ’کوتاہیوں اور خامیوں‘ کا اعتراف کر لیا ہے۔ پولیٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی مینیجمینٹ کے قومی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کی جانب سے جانوروں کی منڈیوں پر، جہاں سے یہ وائرس پھیلا، کریک ڈاؤن کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
پیر کے دن کے اختتام تک کورونا وائرس کے باعث چین میں 425 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 20 ہزار سے زائد تصدیق شدہ کیس سامنے آ چکے ہیں۔ صرف پیر کے روز وائرس کے باعث 64 نئی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ تین ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
پیر کے روز ہونے والی ہلاکتیں اور نئے کیس ہوبائی صوبے میں سامنے آئے ہیں جو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔
دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے باعث اب تک ایک ہلاکت ہوئی ہے جو فلپائن میں رپورٹ ہوئی ہے جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 150 ہے۔