انتہاپسند فاشسٹ نظریے کے سبب بھارت کے ٹکڑے ہو جائیں گے: عمران خان

  • منگل 04 / فروری / 2020
  • 4590

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت تباہی کے راستے پر گامزن ہے اور اگر بھارت فسطائیت اور انتہا پسند ہندووتوا کے راستے پر ہی چلتا رہا تو ہمیشہ کے لیے تقسیم ہو جائے گا اور اس کے ٹکڑے جائیں گے۔

ملائیشیا میں ایڈوانس اسلامک اسٹڈیز انسٹیٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے ملائیشیا کو اپنی زندگی میں تبدیل اور ترقی کرتے ہوئے دیکھا اور مجھے ملائیشیا کی یہ چیز سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے کہ یہ انتہائی تہذیب یافتہ معاشرہ ہے۔ وہاں مذہب اور لسانی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی ہے جو کسی مہذب معاشرے کی سب سے بڑی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام کے سنہرے دور کو دیکھنا چاہیے جہاں تمام مختلف مذاہب ایک ساتھ رہتے تھے۔ جہاں برداشت تھی اور لوگ ایک دوسرے کو قبول کرتے تھے۔ مذہب کو کبھی بھی جبری طور پر مسلط نہیں کیا گیا تھا۔ ملائیشیا میں لوگ جس طرح رہتے ہیں تو ہمیں یہی چیز نظر آتی ہے اور میرے خیال میں ہمیں اس کو اپنانا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے دسمبر میں کوالالمپور سمٹ میں شرکت کے لیے یہاں آنا تھا تاکہ ہم اسلاموفوبیا کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کر سکیں۔ انہوں نے اسلامو فوبیا کے پھیلاؤ پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ایرانی انقلاب کے موقع پر مغربی دنیا میں خوف پیدا ہو گیا تھا کہ پوری اسلامی دنیا مغرب مخالف اس انقلاب کے زیر اثر آ جائے گی اور یہ پہلا موقع تھا کہ جب مغربی دنیا کو اسلام سے خوف محسوس ہوا۔

دنیا کو دوسری مرتبہ اسلاموفوبیا کا خطرہ اس وقت محسوس ہوا جب 1989 میں سلمان رشدی نے ایک توہین آمیز کتاب لکھی، اس کتاب کے خلاف مسلمان ممالک میں آنے والے ردعمل کو مغربی دنیا نہ سمجھ سکی کیونکہ انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت تھی کہ مسلمان اپنے نبیﷺ کی توہین کے خلاف اس حد تک شدید ردعمل کیوں دے رہے ہیں۔

عمران خان نے سلمان رشدی واقعے کے بعد پھیلنے والے اسلاموفوبیا کو مسلمان ممالک اور ان کی قیادت کی سب سے بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان رہنماؤں کو دنیا کو یہ سمجھانا چاہیے تھا کہ یہ چیز ہمارے لیے اتنی اہمیت کیوں رکھتی ہے اور انہیں یہ سمجھانا چاہیے تھا کہ نبی اکرمﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور ہم ان سے بہت محبت کرتے ہیں۔

مغربی ممالک خصوصاً یورپ میں مذہب پر اس طرح سے عمل نہیں کیا جاتا جس طرح سے ہم کرتے ہیں کیونکہ وہاں وہ اپنی ہستیوں کے بارے میں مزاحیہ پروگرام کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں یہ بتانا چاہیے تھا کہ نبی اکرمﷺ کی توہین سے ہمیں اتنی تکلیف کیوں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد مغرب میں یہ تاثر بن گیا کہ اسلام ایک عدم برداشت کا مذہب ہے، یہ مغربی اقدار کے خلاف ہے جس کے بعد اسلاموفوبیا بڑھتا چلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا موقع 9/11 (یعنی 11 ستمبر 2001) کا تھا جس میں 15 سے 16 دہشت گردوں نے ایک مجرمانہ سازش کی اور مسلم دنیا کے لیے سب سے تباہ کن بات یہ ہوئی کہ مغربی رہنماؤں نے اسے اسلامی دہشت گردی قرار دیا۔ ہمیں اعتراض کرنا چاہیے تھا کیونکہ ان کے اس دہشت گردی کے عمل کا اسلام سے آخر کیا تعلق تھا؟

اسلام اور ان دہشت گردی کی کارروائیوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں اور بدقسمتی سے مسلم دنیا نے بھی مغرب کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاحات 'ترقی پسند اسلام' اور 'قدامت پسند اسلام' کو استعمال کرنا شروع کردیا جو مسلم دنیا کے لیے سب سے بڑا المیہ تھا۔ اس کے بعد مغربی دنیا نے ہر مسلمان کو دہشت گرد سمجھنا شروع کردیا اور اسلاموفوبیا میں مزید اضافہ ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ مسلم دنیا کے رہنماؤں نے دہشت گردی اور مذہب کو آپس میں جوڑنے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے خودکش حملوں کو بھی اسلام سے جوڑ دیا گیا حالانکہ تاریخی شواہد اس بات کی یکسر نفی کرتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپانی پائلٹس نے خودکش حملے کیے لیکن کسی نے بھی ان کے مذہب کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا جبکہ 9/11 سے قبل اکثر خودکش حملے ہندو تامل ٹائیگرز نے کیے لیکن کسی نے اس وقت بھی مذہب کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا۔ اسلام اور دہشت گردی کو آپس میں جوڑ دیا گیا جس کی وجہ سے ہمیں مغربی ممالک میں مسلمانوں پر تشدد اور تضحیک کی کئی مثالیں نظر آتی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اب بچوں کو موبائل فون میسر ہے جس کے سبب ان کی معلومات تک جتنی رسائی اب ہے، پہلے کبھی بھی نہ تھی لہٰذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اسلام کی تاریخ سے آگاہ کریں۔ ایک مختلف نقطہ نظر پیش کریں تاکہ ان کو اسلام کی اصل تصویر پیش کی جا سکے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے میرا وہی نظریہ ہے جو بانیان پاکستان علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کا تھا۔ پاکستان کے لیے ان کا نظریہ یہ تھا کہ اس ملک کو مدینہ میں مسلمانوں کی پہلی ریاست کی طرز پر بنایا جائے جس کی بنیاد ہمارے نبی اکرم ﷺ نے رکھی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ جب میں وزیراعظم بنا تھا تو میں نے سب سے پہلے بھارت سے رابطہ کیا تھا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جو کچھ ہو سکا وہ کریں گے کیونکہ سب سے زیادہ غریب لوگ ہمارے خطے میں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں غربت کو کم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ دونوں ملک تعلق بہتر کرتے ہوئے آپس میں تجارت شروع کریں۔ دونوں ملکوں میں جتنی کشیدگی کم ہوگی اتنا ہی ہم دفاع پر کم خرچ کریں گے اور تجارت پر زیادہ خرچ کر سکیں گے جس سے خوشحالی بڑھے گی۔ بھارت کی جانب سے ہماری پیشکش کو مسلسل ٹھکرایا جاتا رہا جس کی کوئی عملی وجہ نہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ بھارت پر ایک انتہا پسند نظریے نے قبضہ کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے وہ بھارتی عوام کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور اس سے بھارت ہمیشہ کے لیے تقسیم ہو جائے گا اور اس کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ بھارت میں بڑی اقلیتیں موجود ہے اور ہندووتوا کے انتہا پسند فاشسٹ نظریے نے 50کروڑ افراد کو الگ کردیا اور اگر وہ اسی ڈگر پر چلتے رہے تو انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ اگر ایک مرتبہ بھارت میں انتہا پسند نظریے کا جن بوتل سے باہر آ گیا تو اسے دوبارہ بوتل میں ڈالنا مشکل ہو جائے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں بھارت سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے وہ اس کے لیے سب سے بڑی تباہی ہے کیونکہ یہ فاشسٹ سوچ کسی اور نظریے کو پنپنے کی اجازت نہیں دیتی۔

اس موقع پر انہوں نے مستقبل میں بھارت سے بہتر تعلقات کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں جب کبھی بھی ایسی حکومت آتی ہے جو برصغیر میں غربت کے خاتمے اور خوشحالی پر یقین رکھتی ہو تو پاکستان انہیں دوستی کی پیشکش کرنے والا پہلا ملک ہوگا۔