اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ کا عظیم امریکہ تعمیر کرنے کا دعویٰ

  • بدھ 05 / فروری / 2020
  • 4060

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے دور میں امریکہ کی معیشت نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ فوج کو مضبوط بنایا گیاہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی جنگیں ختم کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

صدر نے منگل کو کانگریس کے دونوں ایوانوں سے 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کیا۔ امریکہ کے صدر ہر سال کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہیں جن میں وہ ملک کی داخلی و خارجی صورتِ حال اور مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جاتا۔ اس خطاب کو اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کہا جاتا ہے۔

منگل کو صدر ٹرمپ خطاب کے لیے آئے تو ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ان سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ لیکن صدر ٹرمپ اُنہیں نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ صدر ٹرمپ کے خطاب کے دوران ری پبلکن ارکان وقفے وقفے سے اپنی نشستوں سے اٹھ کر صدر کا حوصلہ بڑھاتے رہے جب کہ ڈیموکریٹ ارکان صدر کی تقریر کے دوران خاموش رہے۔ ہاؤس اسپیکر نینسی پیلوسی نے صدر ٹرمپ کے خطاب کے اختتام پر ان کی تقریر کا مسودہ پھاڑ دیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تین سال پہلے ہم نے امریکہ کی عظمت کی واپسی کا آغاز کیا تھا۔ آج میں آپ کے سامنے شاندار نتائج پیش کرنے کے لیے موجود ہوں۔ ملک کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، روزگار میں اضافہ ہو رہا ہے، جرائم گھٹ رہے ہیں اور امریکہ ترقی کر رہا ہے۔ صرف تین سال میں ہم نے امریکہ کے زوال کی سوچ کو ختم کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایسی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں جس کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے تک سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ اور ہم کبھی پیچھے کی طرف نہیں جائیں گے۔ میں آج جو تصور پیش کر رہا ہوں، وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کیسے دنیا کا سب سے خوش حال معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں ہر شہری امریکہ کی شاندار ترقی میں شریک ہو سکتا ہے۔ جہاں ہر کمیونٹی امریکہ کے غیر معمولی عروج میں شامل ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ایسے موقع پر کیا جب اُنہیں سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔ وہ امریکہ کی تاریخ کے تیسرے صدر ہیں جو مواخذے کی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے آٹھ سالہ دور میں تین لاکھ افراد کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ میری حکومت کے صرف تین سال میں 35 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔ ریگولیٹری کم کرنے کی ہماری جرات مندانہ مہم کی وجہ سے امریکہ دنیا میں تیل اور گیس کا سب سے بڑا پیداواری ملک بن چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے چین کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ کیا ہے جو ہمارے کارکنوں کا دفاع کرے گا، امریکی حقوق دانش کا تحفظ کرے گا، ہمارے خزانے میں اربوں ڈالر لائے گا اور امریکہ کی مصنوعات اور پیداوار کے لیے وسیع نئی مارکیٹیں کھولے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی آزادی کا تحفظ کرنے کے لیے ہم نے امریکی افواج پر 2200 ارب ڈالر صرف کیے ہیں۔ ہم نے امریکی افواج کی ایک نئی شاخ تخلیق کی ہے، یعنی خلائی فورس۔ ایک شاندار معاشرے کی تشکیل کے لیے اگلا قدم یہ ہوگا کہ امریکہ کے ہر نوجوان کو بہترین تعلیم اور امریکی خواب کو پانے کا موقع ملے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو قانون پسند امریکیوں کی پناہ گاہ ہونا چاہیے۔ غیر ملکی مجرموں کے لیے نہیں۔ میری حکومت نے امریکہ کی جنوبی سرحد کو محفوظ کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ میری حکومت قومی سلامتی کا سختی کے ساتھ دفاع کر رہی ہے۔ امریکیوں کی زندگی کا تحفظ کرنے کے ساتھ ہم مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی جنگیں ختم کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔